”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد!…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: رواه الترمذي
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3791Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 3791)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ اسرا و معراج کی رات آپ کی ملاقات ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے ہوئی، تو انھوں نے آپ سے کہا : اے محمد! اپنی امت کو میرا سلام پہنچا دینا اور ان کو بتا دینا کہ اس کی مٹی بہت اچھی ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ اس میں کھارے پن کا شائبہ تک نہیں ہے۔ جنت ایک ہموار، پیڑ پودوں سے خالی اور وسیع و عریض زمین ہے۔ اس کے اندر درخت لگانے کا کام پاکیزہ کلمات کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ یہ پاکیزہ کلمات باقیات صالحات بھی کہلاتے ہیں۔ یہ کلمات ہیں : سُبْحَانَ اللهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔ جب جب کوئی مسلمان ان کلمات کا ورد کرتا ہے، تو اس کے لیے جنت میں ایک ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- جنت میں کثرت سے پودا لگانے کے لیے ہمیشہ ذکر کرنے کی ترغیب۔
- امت اسلامیہ کی فضیلت کہ ابراہیم علیہ السلام نے اسے سلام پہنچایا ہے۔
- ابراہیم علیہ السلام کا امّت محمدیہ ﷺ کو کثرت سے ذکر الہی کرنے کی ترغیب دینا۔
- طیبی کہتے ہیں : جنت ایک چٹیل میدان ہے۔ اس میں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے بندوں کے اعمال کے مطابق درخت اور محل بنا دیے ہيں۔ ہر بندے کو دونوں چيزیں اس کے عمل کے مطابق ملیں گی۔ پھر اللہ ہر بندے کو ان اعمال کی توفیق دیتا ہے، جن کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے، تاکہ وہ ان کا ثواب حاصل کر سکے۔ جیسے اس نے سچ مچ درخت لگائے ہوں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) states that he met Abraham, Al-Khalīl, (peace be upon him) on the Night of Isrā’ and Mi'rāj, and he said to him: O Muhammad, convey my greetings of peace to your Ummah and inform them that Paradise has a pleasant soil and sweet water that is not salty. Tell them that Paradise is spacious, plain, and treeless. Its seedlings are the good words, which are the lasting righteous deeds: Subhānallāh (glory be to Allah), Al-hamdulillāh (praise be to Allah), La ilāha illallāh (there is no god but Allah), and Allāhu Akbar (Allah is the Greatest). Whenever the Muslim says and repeats them, a seedling is planted for him in Paradise.