صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے مابین صلح کرائے اور اس سلسلے میں اچھی بات ان تک پہنچائے یا اچھی بات کہے۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3853Sahih صحیح
عن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي مُعَيط رضي الله عنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ليس الكذاب الذي يُصلح بين الناس فَيَنْمِي خيرًا، أو يقول خيرًا»
وفي رواية مسلم زيادة، قالت: ولم أسمعه يُرَخِّصُ في شيء مما يقوله الناس إلا في ثلاث، تعني: الحرب، والإصلاح بين الناس، وحديث الرجل امرأته، وحديث المرأة زوجها.
ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے مابین صلح کرائے اور اس سلسلے میں اچھی بات ان تک پہنچائے یا اچھی بات کہے“۔
صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”میں نے آپ ﷺ سے ایسی کوئی بات نہیں سنی جس سے ثابت ہو کہ آپ ﷺ نے ان میں سے کسی بات کی اجازت دی ہے جس کو لوگ (جھوٹ) کہتے ہیں ما سوا تین باتوں کے یعنی حالتِ جنگ میں، لوگوں میں صلح صفائی کے لیے اور میاں بیوی کی آپس کی بات چیت کے دوران“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Umm Kulthūm bint ‘Uqbah ibn Abi Mu‘ayt (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “The liar is not the one who seeks reconciliation between people, conveying good, or saying good things.” There is an addition in the narration of Muslim, saying: that I did not hear him giving permission of lying in anything except in three (things): the war, reconciliation between people, and what a man says to his wife and what a woman says to her husband.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3853

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اصل بات تو یہی ہے کہ جھوٹ حرام ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹ سے بچو۔ کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف۔ آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کے درپہ رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے“۔ (صحیح مسلم)۔
تاہم جھوٹ سے تین امور مستثنی ہیں:
1. وہ جھوٹ جس کا مقصد لوگوں کے مابین صلح کرانا ہو۔
2. جنگ میں جھوٹ بولنا۔
3. خاوند اور بیوی کا آپس میں جھوٹ بولنا۔
یہ تین امور ہیں جن میں از روئے حدیث جھوٹ بولنا جائز ہے کیونکہ ان میں فائدہ ہے اور ان سے کوئی برائی جنم نہیں لیتی۔
اول: جھگڑنے والے دو افراد یا دو قبیلوں کے مابین اصلاح کے لیے جھوٹ بولنا بایں طور کہ وہ اچھی بات دوسرے تک پہنچائے اور ان میں سے ہر ایک سے کہے کہ دوسرا اس کی تعریف کر رہا تھا اور اس کا اچھے انداز میں ذکر کر رہا تھا حالانکہ اس نے ایسی کوئی بھی بات نہ سنی ہو تاہم اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے اور ان کے مابین موجود نفرت و وحشت کو دور کرے۔ ایسا کرنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس کا مقصد اصلاح پیدا کرنا اور دلوں میں موجود دشمنی، رنجش اور نفرت کا ازالہ ہو۔
دوم: دورانِ جنگ جھوٹ بولنا۔ وہ اس طرح کہ وہ ایسے ظاہر کرے کہ اس میں بہت طاقت ہے اور ایسی گفتگو کرے جس سے اس کے ساتھیوں کی بصیرت تیز ہو اور اس کے دشمن کو دھوکا لگے۔ یا پھر یہ کہے کہ مسلمانوں کا لشکر بہت زیادہ ہے اور انہیں بہت کمک مل گئی ہے۔ یا کہے کہ اپنے پیچھے دیکھو، فلاں تمہارے پیچھے تمہیں مارنے کے لیے آ رہا ہے ۔۔۔ یہ سب جائز ہے کیونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہت فائدہ ہے۔
سوم: آدمی کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا یا بیوی کا اپنے شوہر سے جھوٹ بولنا۔ مثلاً وہ اس سے کہے تم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو اور مجھے تمہاری جیسی عورت اچھی لگتی ہے یا اسی طرح کے اور الفاظ کہے جن سے ان دونوں کے مابین الفت و محبت جنم لے۔ اسی طرح بیوی کا بھی اپنی شوہر سے اس طرح کی باتیں کہنا جائز ہے کیونکہ اس میں بہت فوائد مضمر ہیں۔
تاہم میاں بیوی کے مابین جھوٹ کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ایسا ہو جس سے الفت و محبت اور ان کی باہمی معاشرت کو دوام حاصل ہو۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں تک شوہر کا اپنی بیوی سے اور بیوی کا اپنے شوہر سے جھوٹ بولنا کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ جھوٹ ہے جو اظہار محبت کے لیے بولا جائے یا کسی ایسی شے کا وعدہ کرتے ہوئے بولا جائے جس کا مہیا کرنا اس کے لیے لازمی نہ ہو وغیرہ۔ مرد یا عورت کا اپنے اوپر واجب ہونے والی ذمہ داریوں سے چھٹکارا پانے کے لیے یا پھر کسی ایسی شے کے ہتھیانے کے لیے ایک دوسرے کو دھوکا دینا جو ان کی نہیں ہے تو اس طرح کے جھوٹ کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
حافط ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ بیوی یا شوہر کے ساتھ جھوٹ بولنے سے مراد وہ جھوٹ ہے جس کا مقصد شوہر یا بیوی پر آنے والی کسی ذمہ داری کا اسقاط نہ ہو یا اس کا مقصد کوئی ایسی شے لینا نہ ہو جو شوہر یا بیوی کی نہ ہو۔

Explanation

The basic rule states that lying is unlawful, for the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “Beware of telling lies, for lying leads to wrongdoing and wrongdoing leads to hellfire. A man will keep telling lies and strive to tell lies until he is recorded with Allah as a liar” [Muslim]. However, there are three exceptions where lying is permissible: Lying for the sake of reconciliation between people; lying during war; and lying in what a man says to his wife. The Sunnah has made lying in these three cases permissible, for what it contains of benefits without resulting in any harm, as following: 1. Lying for the sake of reconciliation between two people or two tribes disputing with each other. Here, one conveys good words and narrates to one of the disputing parties that the other praised him and spoke well of him and mentioned him with good attributes. He in fact did not hear so, however, his aim is to bring them together and to remove the aversion and estrangement between them. This is permissible and there is no harm in it as long as one's aim is reconciliation and removing enmity and hatred from the hearts. 2. Lying during war: it is to display strength and say things to empower his companions, and to increase their morale, in order to defeat the enemies. It also includes saying that the Muslim army is big in number and has received strong back up, or saying: Look behind you! So-and-so has come from behind you to strike you! This is also permissible, due to what it contains of enormous benefit for Islam and the Muslims. 3. Lying between spouses: i.e. husband says to his wife "You are the most beloved person to me, and I desire only you” and similar words that induce harmony and love between them; and she says the same. This is permissible as well, due to what it contains of mutual benefits. It is noteworthy that lying between the spouses is limited to what will bring or increase harmony and love between them. It is not permissible in everything. An-Nawawi (may Allah have mercy upon him) said: “Regarding man's lying to his wife and vice versa, it is intended to be a means of displaying love and devotion to one another and similar things. However deception, for the sake of evading duties or taking what is not his or her right, this is unlawful according to the scholars' consensus” [Sharh Muslim by An-Nawawi]. Al-Hafizh Ibn Hajar (may Allah have mercy upon him) said: “They (scholars) agreed that the permissible lying between a wife and a husband is in those things which do not entail the negligence of the duties of any of them or the acquisition of rights that they are not entitled to.”

Topics موضوعات