اگر تم ویسے ہی ہو، جیسا تم نے بتایا ہے، تو گویا تم انھیں گرم گرم راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس حالت پر رہو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3863Sahih Muslim (HadeethEnc 3863)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں آکر شکایت کی کہ اس کے کچھ رشتے دار ہيں، جن کے ساتھ وہ اچھا سلوک کرتا ہے اور وہ اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہيں۔ وہ رشتہ جوڑتا ہے اور اس کے رشتے دار کاٹتے ہيں۔ وہ بھلا کرتا ہے اور اس کے رشتے دار برا کرتے ہيں۔ وہ بردباری دکھاتا ہے اور درگزر سے کام لیتا ہے اور اس کے رشتے دار جہالت آمیز برتاؤ کرتے ہيں۔ ایسے میں اس کی جانب سے صلہ رحمی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے یا نہیں؟
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تیری بات درست ہے، تو تم انھیں خود ان کی نظر میں رسوا اور ذلیل کر رہے ہو گویا کہ تو انھیں گرم راکھ کھلا رہا ہے۔ کیوں کہ تم کثرت سے ان پر احسان کر رہے ہو اور وہ اپنے تئیں بد عملی کر رہے ہیں۔ جب تک تو ان پر احسان کرنے کی اپنی اس روش پر قائم رہے گا اور وہ تیرے ساتھ بدسلوکی کی اپنی روش پر قائم رہيں گے، اللہ کی جانب سے ان کے خلاف ایک معاون اور تجھے ان کی ایذا رسانیوں سے بچانے کے لیے ایک محافظ تیرے ساتھ لگا رہے گا۔
حدیث کے فوائد
- بدسلوکی کا مقابلہ احسان سے کرنے میں برے شخص کا حق کی طرف پلٹنے کا امکان ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست۔‘‘
- اللہ کے حکم کی بجا آوری، خواہ اس راہ میں اذیتوں کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے، ایک مومن کے لیے اللہ کی مدد کے حصول کا سبب ہے۔
- قطع رحمی دنیا کے اندر عذاب و تکلیف اور آخرت میں گناہ اور سخت حساب کا باعث ہے۔
- مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اچھے اعمال میں ثواب کى امید رکھے اور کسی کی ایذا رسانی اور قطع رحمی کی وجہ سے اپنی اچھی عادت سے دست کش نہ ہو۔
- اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ نہيں ہے، جو صلہ رحمی کے بدلے میں صلہ رحمی کرتا ہے۔ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ اس سے رشتہ توڑا جائے اور وہ جوڑے۔
Explanation
A man complained to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about his relatives and kins and how he treats them kindly, but they treat him in the opposite manner. He maintains kinship ties with them and visits them, but they sever ties with him. He shows them kindness and loyalty, but they treat him unfairly and roughly. He tolerates and pardons them, but they are intolerant towards him, and this shows in their bad words and actions. Should he continue maintaining kinship ties with them despite what is mentioned?
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to him: If the case is the way you mentioned, then you disgrace and degrade them before their own selves as if you are feeding them hot ashes, given your abundant kindness and their hideous way of acting. You will continue to have a supporter against them from Allah that wards off their harm as long as you continue to be kind to them as mentioned and as long as they keep treating you badly.