جو لوگ کسی مجلس سے اٹھیں اور اس مجلس ميں انہوں نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو، تو ان کا وہاں سے اٹھنا ایسے ہے، جیسے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: رواه أبو داود
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3910Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 3910)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کچھ لوگ کسی جگہ میں بیٹھتے ہیں اور اللہ کا ذکر کیے بغیر وہاں سے کھڑے ہو جاتے ہيں، تو وہ ان لوگوں کی طرح کھڑے ہوتے ہيں، جو کسی مرے ہوئے گندے اور بدبودار گدھے کے پاس جمع ہوئے ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ بات میں مشغول ہو گئے اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو گئے۔ اس طرح کی مجلس ان کے لیے قیامت کے دن حسرت، ندامت اور گھاٹے کا سودا ثابت ہوگی۔
حدیث کے فوائد
- ذکرِ الٰہی سے غفلت کی تنبیہ صرف مجالس تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیگر جگہوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص کسی جگہ بیٹھے اس کے لیے اس جگہ کو اللہ کا ذکر کرنے سے پہلے چھوڑنا مکروہ ہے۔
- قیامت کے دن حسرت وندامت یا تو وقت کا استعمال اللہ کی بندگی میں نہ کرنے کی وجہ سے اجر و ثواب سے محرومی کی وجہ سے ہوگی یا پھر اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں وقت گزارنے کی بنا پر گناہ و سزا کو سامنے دیکھ کر۔
- جب جائز کاموں میں مشغول ہوکر اللہ کے ذکر سے غافل ہونے والے کے لیے یہ تنبیہ ہے، تو ان حرام مجلسوں کا کیا حال ہوگا، جن میں غیبت اور چغل خوری وغیرہ ہوتی ہو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that no people attend a gathering then leave it without remembering Allah therein except that it will be as if they are leaving a gathering on the carcass of a donkey in terms of rottenness and filth because of being too preoccupied with their speech from remembering Allah. This gathering will be a source of their sorrow, loss, and eternal regret on the Day of Judgment.