صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر مجھ پر تین دن گزر جائیں اور میرے پاس اس…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3916Sahih صحیح
عن أبي ذر رضي الله عنه قال: كنت أمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في حَرَّةٍ بالمدينة، فاستقبلنا أُحُدٌ، فقال: «يا أبا ذر» قلت: لبيك يا رسول الله. فقال: «ما يَسُرُّنِي أن عندي مثل أُحُدٍ هذا ذهبًا تمضي علي ثلاثة أيام وعندي منه دينارٌ، إلا شيء أرصده لِدَيْنٍ، إلا أن أقولَ به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا» عن يمينه وعن شماله ومن خلفه، ثم سار، فقال: «إن الأكثرين هم الأَقَلُّونَ يوم القيامة إلا من قال بالمال هكذا وهكذا وهكذا» عن يمينه وعن شماله ومن خَلفه «وقليل ماهم». ثم قال لي: «مكانك لا تَبْرح حتى آتيك» ثم انطلق في سوادِ الليل حتى تَوارى، فسمعت صوتًا، قد ارتفع، فَتَخَوَّفْتُ أن يكون أحدٌ عَرض للنبي صلى الله عليه وسلم فأردت أن آتيه فذكرت قوله: «لا تَبْرَحْ حتى آتيك» فلم أبْرَحْ حتى أتاني، فقلت: لقد سمعت صوتًا تَخَوَّفْتُ منه، فذكرت له، فقال: «وهل سمعته؟» قلت: نعم، قال: «ذاك جبريل أتاني فقال: من مات من أُمتك لا يُشرك بالله شيئًا دخل الجنة»، قلت: وإن زنى وإن سرق؟ قال: «وإن زنى وإن سرق».
ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینے کے ایک حرے (کالے پتھر والی زمین) پر چلا جا رہا تھا کہ ہمارے سامنے احد پہاڑ آگيا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر مجھ پر تین دن گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی موجود ہو، ماسوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں۔ اس کے سوا جتنا کچھ بھی ہو میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح تقسیم کردوں۔ اپنے دائیں، بائیں اور پیچھےکی طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ ﷺ چل دیے اور فرمایا: زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے، ماسوا اس شخص کے جس نے مال کو اس طرح، اس طرح اور اس طرح اپنے دائیں، بائیں اور پیچھے خرچ کیا ہوگا، ليکن ایسا کرنے والے کم ہی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اپنی اس جگہ سے تب تک نہ ہٹنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاوں۔ پھر آپ ﷺ رات کے اندھیرے میں چل دیے يہاں تک کہ اوجھل ہو گئے۔ پھر میں نے ایک بلند آواز سنی۔ مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی شخص نبی ﷺ کو نقصان پہنچانے کے درپے تو نہیں ہو گیا۔ میں نے آپ ﷺ کے پاس جانے کا ارادہ کیا لیکن مجھے آپ ﷺ کا فرمان یاد آ گیا کہ میرے آنے تک اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔ چنانچہ میں وہاں سے نہ ہٹا یہاں تک کہ آپ ﷺ میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: میں نے ایک آوا ز سنی تھی جس کی وجہ سے مجھے خوف لاحق ہو گیا تھا۔ میں نے ساری بات آپ ﷺ کو بتا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے وہ آواز سنی تھی؟ میں نے جواب دیا:جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا: اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ فرمايا: اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported: While I was walking with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in the Harrah of Madīnah, the Mount of Uhud came in sight. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "O Abu Dharr!" I said: "I am at your service, O Messenger of Allah." He said: "I would not be pleased to have the like of Uhud in gold and three days pass while even one dinar thereof remains with me, except what I keep for debts. Otherwise, I would distribute it among Allah's slaves like this, and like this, and like this", pointing to his right, his left, and his back. He walked and said: "The rich ones will be the ones with the least good deeds on the Day of Judgment except those who spend their wealth like this, and like this, and like this", pointing to his right, left, and back, "but these are only few." Then he said to me: "Stay in your place. Do not leave it until I come back to you." Then he proceeded in the darkness of night until he went out of sight. I then heard a loud voice and I was afraid that someone might have attacked the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him). So I wanted to go to him, but I remembered what he had said: "Do not leave until I come back to you." Therefore, I stayed at my place until he came back to me. I said: "I heard a voice and I was afraid of it" and I mentioned that to him. He said: "Did you hear it?" I replied: 'Yes.' He said: "That was Jibrīl who came to me and said: 'Whoever died of your Ummah without associating anything with Allah will enter Paradise.'" I said: "Even if he committed fornication and theft?" He said: "Even if he committed fornication and theft."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3916

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث کا مفہوم: ابو ذر رضی اللہ عنہ بيان کر رہے ہيں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ میں کالے پتھروں والی زمین (حرہ) پر چلے جا رہے تھے کہ سامنے احد پہاڑ آ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو مجھے یہ بات بالکل پسند نہ ہوتی کہ مجھ پر تین دن گزر جائیں“۔ یعنی یہ بات مجھے خوش نہيں کرتی کہ تین دن گزر جائیں اور اس میں سے میرے پاس کچھ بچا رہے ایک دینار بھینہیں، ”ما سوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں“ یعنی اگر میرے پاس احد پہاڑ کے بقدر خالص سونا ہوتا تو میں وہ سارا کا سارا اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑتا سوائے اس شے کے جس کی مجھے حقوق پورا کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے ضرورت ہوتی۔ اور جو کچھ اس سے زائد ہوتا تو ميں اس بات کوبالکل پسند نہيں کرتا کہ تين دن گزر جائيں اور اس ميں سے کچھ بھی ميرے پاس باقی رہے۔
يہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو دنیا میں بالکل بھی رغبت نہیں تھی کیونکہ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ مال جمع کریں سوائے اس شے کے جسے آپ ﷺ قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال رکھتے۔ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جَو کے بدلے رہن ميں رکھی ہوئی تھی جسے آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے ليے ليے تھے۔
اگر اللہ عز و جل کے نزدیک دنیا محبوب ہوتی تو اللہ تعالی اپنے نبی ﷺ کو اس سے محروم نہيں رکھتا۔ لیکن دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے اور سوائے عالم اور متعلم کے اور ان کاموں کے جو اللہ کی اطاعت گزاری میں ہوں۔
پھر آپ ﷺ نےفرمایا: ”زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے“ یعنی جن کے پاس دنیا کی کثرت ہو گی قیامت کے دن ان کے پاس نیک اعمال کی کمی ہو گی۔ کیونکہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس دنیا کے مال کی کثرت ہو جاتی ہے وہ استغنا اور تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اللہ کی اطاعت سے رو گردانی کرنے لگتا ہے کیونکہ دنیا اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے چنانچہ وہ دنیا میں تو بہت مال والا ہوتا ہے لیکن آخرت میں تہی دامن ہوگا۔
”جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح دیا“ یعنی مال کو، اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ کیا۔
”اور ایسے لوگ کم ہی ہیں“ یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ بہت کم ہیں۔
پھر فرمایا: ”جو بھی اس حال میں مر گیا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا تو وہ جنت میں جائے گا اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ زنا اور چوری بہت ہلکے گناہ ہیں بلکہ یہ بہت ہی بڑے گناہ ہیں۔ اسی لیے تو ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت بڑی لگی اور انہوں نے پوچھا کہ ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“، ایسا اس وجہ سے ہے کہ جو شخص حالت ایمان میں مر جاتا ہے اور اس پر کبیرہ گناہ ہوتے ہیں تو (ایسے لوگوں کے بارے میں) اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے“۔
ہو سکتا ہے کہ اللہ اس شخص کو معاف کر دے اور اسے عذاب (بھی) نہ دے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے عذاب دے، تاہم اگر عذاب دے گا بھی تو بالآخر وہ جنت میں ہی جائے گا کیونکہ ہر وہ شخص جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو اور نہ ہی اس نے کسی کفریہ بات کا ارتکاب کیا ہو تو وہ بالآخر جنت میں جائے گا۔
البتہ جس نے کسی کفریہ عمل کا ارتکاب کیا اور اسی پر اس کی فوات ہوئی ہو تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اس کا عمل رائیگاں جائے گا۔ کیونکہ منافقین رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّـهِ﴾ ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“ وہ اللہ کا ذکر تو کرتے تھے لیکن بہت کم اور نماز تو پڑھتے تھے لیکن: ﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾ ”اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں“ اس کے باوجود وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔
یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختيار کرنے کی دليل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو اپنا دل اس دنيا میں نہیں لگانا چاہیے اور یہ کہ دنیا اس کے ہاتھ میں ہو، دل میں اس کی جگہ نہ ہو۔ تاکہ وہ اپنے دل کے ساتھ اللہ عز وجل کی طرف متوجہ ہو۔ یقینا یہی کمالِ زہد ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ اس دنيا میں سے کچھ بھی نہ لیں، بلکہ جو چیز آپ کے لیے حلال ہو وہ لیں اور اس میں سے اپنا حصہ نہ بھولیں لیکن اسے اپنے ہاتھ میں رکھیں، اپنے دل میں اسے جگہ نہ دیں۔ اور يہی اہم بات ہے۔

Explanation

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reports that he was walking with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in an area strewn with dark stones in Madīnah, and they came upon the well-known Mount of Uhud. The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said that if he had the like of Uhud in gold, he would not be pleased to keep it for more than three days, except an amount of it that he would use to settle a debt. In other words, if he had an amount of gold equal in size to the Mount of Uhud, he would spend it all in the cause of Allah, and would only keep of it what he needs to settle debts and fulfill rights due to others. This indicates that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was among the most ascetic people in this world, because he did not wish to collect wealth except only to settle his debts. When he died, his armor was pawned with a Jew for some barley that he borrowed from him to feed his family. Had the worldly life been dear to Allah, the Almighty,, He would not have deprived His Prophet of it. Indeed, the world is cursed, and everything in it is cursed, except for the remembrance of Allah and what pleases Him, as well as a scholar and a seeker of knowledge. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) further said that those who have much wealth in the world will be destitute of good deeds on the Day of Judgment, because wealthy people are mostly arrogant, feel that they are not in need of Allah, and refrain from obeying His commands. They are distracted by the pleasures of the world as they indulge themselves in life, and thus find themselves with poor stock in the Hereafter. The minority, however, are those who spend generously in the cause of Allah. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) further said that anyone who dies without associating partners with Allah will enter Paradise, even if he robbed and fornicated. This does not mean that fornication and theft are not major sins. They are. That is why Abu Dharr was astonished, saying: “Even if he committed fornication and theft?!” And the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) replied in the affirmative. Concerning the one who dies after having committed major sins, Allah says: {Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills} [Sūrat An-Nisā': 48]. Allah may pardon or punish him. In case of punishment, however, he will end up entering Paradise. The rule is that any Muslim who does not associate partners with Allah or commits an act that takes him out of the fold of Islam will eventually settle in Paradise. However, anyone who commits an act of disbelief will reside eternally in Hell. All of his deeds will be rendered worthless. A case in point are the hypocrites, who used to say to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): {We testify that you are indeed the Messenger of Allah} [Sūrat al-Munāfiqūn: 1]. And they used to remember Allah but only a little, and they used to pray but {When they stand for prayer, they stand lazily} [Sūrat An-Nisā': 142]. Despite all that, they will be in the lowest depth of the Fire. Finally, this Hadīth encourages an ascetic approach toward the worldly life, i.e. not to be attached to it. The world should be in one's hand not in one's heart. The heart has to be sincere to Allah. Such is the perfect asceticism. This does not mean that one should abstain from enjoying this world. Rather, one should enjoy the lawful things of the world, without keeping the world in one's heart. This is what matters.

Topics موضوعات