”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اسے یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی سی ہے“۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4177Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4177)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اللہ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کا فرق بیان فرمایا ہے۔ نفع رسانی اور حسن منظر کے معاملے میں دونوں کے درمیان وہی فرق ہے، جو زندہ اور مردہ کے درمیان ہے۔ اپنے رب کو یاد کرنے والا زندہ کی طرح ہے، جس کا ظاہر زندگی اور باطن معرفت کے نور سے مزین ہوتا ہے۔ اس کے اندر نفع پہنچانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ جب کہ اللہ کو یاد نہ کرنے والے کی مثال مردے کی طرح ہے، جس کا ظاہر حیات سے خالی اور باطن بے سود ہوتا ہے۔ اس کے اندر نفع پہنچانے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی۔
اسی طرح جب گھر میں رہنے والے لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہوں، تو وہ گھر زندہ ہے اور جب اللہ کے ذکر سے پہلو تہی کرتے ہوں، تو وہ گھر مردہ ہے۔ ویسے یہاں زندہ اور مردہ اگرچہ گھر کو کہا گیا ہے، لیکن مراد گھر میں رہنے والے لوگ ہیں۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کا ذکر کی ترغیب اور ذکر سے غفلت پر تنبیہ۔
- جس طرح روح جسم کی زندگی ہے، اسی طرح ذکر روح کی زندگی ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ مفہوم و مراد کو سمجھانے کے لیے مثال بیان کرتے تھے۔
- نووی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے اور گھر کو اللہ کے ذکر سے خالی نہيں رکھنا چاہیے۔
- نووی کہتے ہیں: اگرچہ میت بھی خیر کی طرف منتقل ہوتی ہے، لیکن اللہ کی بندگی کے ساتھ لمبی عمر ملنا فضیلت کی بات ہے۔ کیوں کہ زندہ آدمی کی نیکیوں کا خزانہ اس کے ذریعے کیے گئے اچھے کاموں سے بڑھتا جاتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified the difference between the person who remembers Allah Almighty and the one who does not and how such a difference is like that between the living and the dead person in terms of benefit and good appearance. The one who remembers his Lord is like the living person who is outwardly adorned by the light of life and inwardly adorned by the light of knowledge and who offers benefit, whereas the one who does not remember Allah is like the dead person who is outwardly idle and inwardly invalid and bears no benefit.
Likewise, the house whose dwellers remember Allah is described as being living; otherwise, it is a dead house given its dwellers' heedlessness of remembering Allah. Describing the house as being living or dead is meant to refer to its dwellers.