میں اپنے بعد تمھارے بارے میں جن چيزوں سے ڈرتا ہوں، ان میں سے ایک دنیا کی چمک دمک اور دنیائی زیب وزینت کے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4180Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4180)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر بیٹھ کر اپنے ساتھیوں سے بات کرنے لگے۔ اسی دوران آپ نے فرمایا:
مجھے اپنے بعد تمھارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ تم پر زمین کی برکتوں، دنیا کی رعنائی، اس کی چمک دمک اور اس کے طرح طرح کے ساز و سامان، کپڑوں اور کھیتوں کے دروازے کھول دیے جائيں، جو ہیں تو کچھ ہی دنوں کے لیے لیکن لوگ ان کے حسن وجمال پر فخر و مباہات کرتے ہيں۔
ایک شخص نے کہا: دنیا کی رعنائی بھی تو اللہ کی نعمت ہے، تو کیا یہ نعمت نقمت وعقوبت بن سکتی ہے؟
اس کی بات سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور لوگوں کو لگا کہ آپ ناراض ہو گئے ہیں، لہذا لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے۔
لیکن کچھ ہی لمحوں میں واضح ہو گیا کہ آپ پر وحی اتر رہی تھی۔ پھر اپنی پیشانی سے پیسنہ پوچھنے لگے اور فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے؟
اس نے عرض کیا : میں یہاں ہوں۔
چنانچہ آپ نے اللہ کی حمد وثنا کی اور اس کے بعد فرمایا: حقیقی خیر تو خیر ہی لاتی ہے۔ لیکن یہ رعنائی خالص خیر نہیں ہے کیوں کہ یہ فتنہ، دنیوی معاملات میں مقابلہ آرائی اور آخرت پر مکمل توجہ مرکوز کرنے سے غفلت کا باعث بنتی ہے۔ پھر اس کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: موسم بہار میں اگنے والی ہریالی جانور کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور زيادہ کھانے کے نتیجے میں ہونے والی بیماری کی وجہ سے اس کی جان لے لیتی ہے یا اسے ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ البتہ جو جانور کھاتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھ بھر جاتی ہیں، تو سورج کی جانب منہ کر لیتا ہے، پاخانہ یا پیشاب کرتا ہے، پھر اپنے پیٹ میں موجود گھاس کو منہ میں نکالتا ہے، چباتا ہے، پھر نگل لیتا ہے اور اس کے بعد واپس جاکر کھانے لگتا ہے۔
بلاشبہ یہ مال اس سر سبز اور مزے دار گھاس کی طرح ہے، جو زیادہ کھا لیے جانے کی وجہ سے ہلاک کر دیتی ہے یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ لیکن جب انسان بہ قدر ضرورت اور بہ قدر کفایت حلال طریقے سے حاصل کیے گئے مال کے تھوڑے حصے پر اکتفا کر لیتا ہے، تو یہ مال اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ ایک مسلمان کا وہ مال قابل تعریف ہے، جس کا کچھ حصہ وہ مسکین، یتیم اور مسافر کو دیتا ہے۔ جو شخص حق کے ساتھ مال لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو ناحق طریقے سے مال لیتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔ یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔
حدیث کے فوائد
- نووی کہتے ہیں: اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو صحیح طریقے سے مال حاصل کرے اور اچھے کاموں میں خرچ کرے۔
- اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کا حال بیان کیا ہے اور اس کے لیے دنیا کی رعنائیوں اور فتنے کے دروازے کھول دیے جانے کی پیشین گوئی کی ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ مفہوم و مراد کو سمجھانے کے لیے مثال بیان کرتے تھے۔
- صدقہ کرنے اور نیکی کے کاموں ميں مال خرچ کرنے کی ترغیب اور مال کو روکے رکھنے کی ممانعت۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ "إنه لا يأتي الخير بالشر" سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق، خواہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو، خیر کے زمرے میں داخل ہے۔ اس میں شر داخل اس وقت ہوتا ہے جب اسے مستحق لوگوں پر خرچ نہیں کیا جاتا اور غیر مشروع کاموں میں لٹایا جاتا ہے۔ جس چیز کے بارے میں اللہ کا فیصلہ خیر ہونے کا ہے، وہ شر نہيں ہو سکتی اور جس چیز کے بارے میں اللہ کا فیصلہ شر ہونے کا ہے، وہ خیر نہيں ہو سکتی۔ البتہ ڈر اس بات کا ہے کہ جسے خیر دی گئی ہو، وہ اس کے تصرف میں شر کو شامل کر لے۔
- جب غور وفکر کی ضرورت ہو تو جواب دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔
- طیبی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور چار طرح کے ہوا کرتے ہیں: ایک وہ جانور جو خوب لطف اندوز ہوتے ہوئے مست ومگن ہوکر کھاتا ہی چلا جائے، تا آں کہ اس کی پسلیاں پھول جائيں، لیکن اس کے باوجود نہ رکے اور ہلاک ہو جائے۔ دوسرا وہ جانور جو مست ومگن ہو کر کھائے اور بیمار ہو جائے۔ پھر جب بیماری بڑھ جائے تو بچنے کی کچھ تدبیر کرے، لیکن دیر ہو جانے کی وجہ سے بچ نہ سکے۔ تیسرا وہ جانور جو کھائے تو مست ومگن ہوکر، لیکن اس سے ہونے والے نقصان کے ازالے کی کوشش شروع کر دے، چنانچہ کھایا ہوا سب کچھ ہضم ہو جائے اور بچ جائے۔ چوتھا وہ جانور جو اعتدال کے ساتھ کھائے۔ بس اتنا کھائے کہ بھوک مٹ جائے اور توانائی برقرار رہے۔ پہلی مثال کافر کی ہے۔ دوسری مثال ایسے نافرمان کی ہے، جو گناہ چھوڑ کر توبہ اس وقت کرے، جب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو۔ تیسری مثال ایسے شخص کی ہے، جس سے گناہ تو ہو جائے، لیکن فورا توبہ کر لے۔ ایسے شخص کی توبہ قبول ہوتی ہے۔ چوتھی مثال ایسے زاہد اور قانع شخص کی ہے، جس کی توجہ آخرت پر مرکوز رہے۔
- ابن منیر کہتے ہيں: اس حدیث میں تشبیہات کے کئی خوب صورت پہلو موجود ہیں: پہلی تشبیہ: مال اور اس کی افزائش کو پودے اور اس کے ظہور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دوسری تشبیہ: دولت کمانے اور ظاہری اسباب میں کھو جانے والے شخص کو اس جانور سے تشبیہ دی گئی ہے جو گھاس کھانے میں منہمک ہو۔ تیسری تشبیہ: زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے کی تشبیہ کھانے اور پیٹ بھرنے کے لالچ سےدی گئی ہے۔ چوتھی تشبیہ: مال سے نکلنے والے حصے کی، باوجود اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کی بڑی وقعت ہے، جس کی وجہ سے اسے نکالنے میں حد درجہ بخل سے کام لیتے ہيں، اس گوبر سے تشبیہ دی گئی ہے جو جانور خارج کرتا ہے۔ اس میں شرعی طور پر اس کی ناپسندیدگی کی طرف خوبصورت اشارہ ہے۔ پانچویں تشبیہ: مال جمع کرنے اور اسے سمیٹنے سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے کی تشبیہ بکری سے دی گئی ہے، جب وہ آرام کرنے لگے اور سورج کی جانب منہ کر کے اپنا پہلو زمین پر ٹکا دے۔ یہ بکری کی سب سے سکون اور آرام والی حالت ہوا کرتی ہے۔ اس میں اس کے مفادات کے ادراک کی جانب اشارہ ہے۔ چھٹی تشبیہ : مال جمع کرنے اور اسے خرچ نہ کرنے والے کی موت کی تشبیہ اس جانور کی موت سے دی گئی ہے، جو نقصان دہ چيز کو دور کرنے سے غافل رہے۔ ساتویں تشبیہ: مال کی تشبیہ اس ساتھی سے دی گئی ہے، جس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دشمن نہ بن جائے، کیونکہ مال کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی محبت کے پیش نظر اسے محفوظ جگہ میں پوری حفاظت کے ساتھ رکھا جائے اور یہ جذبہ اسے اس کے حق دار کو دینے سے روکتا ہے، جو انسان کے لیے سزا کا باعث بنتا ہے۔ آٹھویں تشبیہ: اسے ناحق لینے والے کی تشبیہ اس شخص سے دی گئی ہے جو کھاتا ہے لیکن شکم سیر نہیں ہوتا۔
- سندھی کہتے ہیں: مال کے لیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے: ایک یہ کہ اسے صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے اور دوسرا یہ کہ اسے اس کے مناسب مصرف میں خرچ کیا جائے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز مفقود ہو جائے تو وہ نقصان کا باعث بن جاتا ہے… اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس میں دونوں قیدوں کے لازم وملزوم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی انسان کو مال صحیح مصرف میں خرچ کرنے کی توفیق تبھی ملتی ہے، جب اس نے اسے جائز طریقے سے حاصل کیا ہو۔
Explanation
One day the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sat on the pulpit talking to his Companions and he said:
What I fear most for you after me is what is disclosed to you of the blessings of the earth, splendor, adornment, and pleasures of this world and what it contains of the various types of possessions, clothes, crops, and other things that people take pride in their beauty despite their being transient.
A man said: The splendor of this worldly life is a blessing from Allah, so how could such a blessing turn into misfortune and punishment?!
People blamed the questioner when they noticed how the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) remained silent, thinking that he had aroused his anger.
However, it became clear that he (may Allah's peace and blessings be upon him) was receiving revelation, and he, then, started wiping the sweat off his forehead. He said: Where is the questioner?
He said: Here I am.
He (may Allah's peace and blessings be upon him) praised Allah and commended Him then said: True goodness brings nothing forth but goodness; however, this splendor is not purely good given the temptation and competition it leads to and how it distracts people from focusing duly on the Hereafter. Then he gave an example saying: The plants and Khadir of the spring, which is a kind of plant the cattle like, could kill or almost kill because of excessive eating that leads to repletion. An exception to this is the eater of the Khadir that eats until both sides of its belly are filled, then it turns to face the sun and throws the dung out of its belly or urinates, then it brings up what is in its belly and chews then swallows it, and then it starts to graze again.
This wealth is like a green and sweet plant that could kill or almost kill if it is too much unless a small amount, which is needed, is only used thereof to fulfill sufficiency through lawful channels, for in this case it causes no harm. It could be a good companion to the Muslim if he gives the needy, the orphan, and the wayfarer from it. Whoever takes it rightfully, it will be blessed for him, but whoever takes it wrongfully will be like the one who eats and is never satiated, and it will be a witness against him on the Day of Judgment.