جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگیوں سے نجات عطا کرے، اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4195Sahih Muslim (HadeethEnc 4195)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ ایک شخص کی تلاش میں تھے جس نے ان سے قرض لیا تھا اور ان سے چھپتا پھرتا تھا۔ آخر کار انہوں نے اسے ڈھونڈ لیا۔ قرض لینے والے نے کہا: میں تنگ دست ہوں اور میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لیے کوئی مال نہیں ہے۔
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی اس کے پاس کوئی مال نہیں ہے؟
اس نے اللہ کی قسم کھاکر بتایا کہ وہ سچ بول رہا ہے۔
بعد ازاں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا:
جسے یہ بات خوش اور مسرور کرتی ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی پریشانیوں، شدتوں اور ہولناکیوں سے نجات دے، وہ تنگدست کی تنگی دور کرے۔ یعنی قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت دے، یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دے۔
حدیث کے فوائد
- تنگ دست کو اس کی تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دینا یا اس کے سر پر لدے ہوئے قرض کے بوجھ کو کلی یا جزئی طور پر ہلکا کرنا مستحب ہے۔
- جو شخص کسی مومن سے دنیا کی کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی بعض سختیوں کو دور کرے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا وہ عمل کرتا ہے۔
- قاعدہ: فرائض نوافل سے افضل ہیں۔ لیکن کبھی کبھی نفل فرض سے افضل ہو جاتا ہے۔ جیسے کسی تنگ دست کے قرض کو معاف کر دینا نفل ہے اور اس کے بارے میں تحمل سے کام لینا، فراخی کا انتظار کرنا اور مطالبہ کر کے تنگ نہ کرنا فرض ہے۔ لیکن یہاں نفل فرض سے افضل ہے۔
- یہ حدیث تنگ دست کے بارے میں ہے، جو کہ معذور ہے۔ رہی بات ٹال مٹول کرنے والے کی، تو اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مال دار شخص کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔"
Explanation
Abu Qatādah al-Ansāri (may Allah be pleased with him) was searching for his debtor, who was hiding from him. When he found him, the debtor said: I am insolvent, and I have no money to repay your debt.
Abu Qatādah (may Allah be pleased with him) asked him to swear by Allah that he had no money,
and the man swore by Allah that he was telling the truth.
Thereupon, Abu Qatādah (may Allah be pleased with him) said that he heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say:
Whoever is pleased and delighted to be saved by Allah from the agonies, tribulations, and horrors of the Day of Judgment, let him give an insolvent person respite by postponing or delaying the demand of payment or by reducing the debt or canceling it.