”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابن ماجہSunan Ibn Majahسنن بیہقیSunan al-BayhaqiOriginal wording: اسے ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4216Sunan Ibn Majah & Sunan al-Bayhaqi (HadeethEnc 4216)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی امت سے درج ذیل تین احوال میں ہونے والے گناہوں کو معاف کر دیا ہے: 1- غلطی سے ہونے والے گناہ۔ یعنی ایسے گناہ جو بالارادہ نہ کیے گئے ہوں۔ مثلا کوئی مسلمان کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کچھ اور ہو جائے۔ 2- بھول چوک سے ہونے والے گناہ۔ یعنی کسی مسلمان کو کوئی بات یاد تو ہو، لیکن جب کرنے کا وقت آئے، تو بھول جائے۔ ایسا ہونے پر کوئی گناہ نہيں ہے۔ 3- زور زبردستی سے کرایا گیا گناہ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، جسے وہ کرنا نہیں چاہتا اور اس کے پاس حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی صورت حال میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اس حدیث کا تعلق ایسے گناہ سے ہے، جن کا تعلق بندہ اور اس کے رب سے ہو۔ کسی مامور فعل کو بھول جانے سے وہ ساقط نہيں ہو جاتا۔ اسی طرح اگر کسی کے بھول کر کوئی کام کردینے سے کسی مخلوق کا کچھ نقصان ہو جائے، تو مخلوق کا حق ساقط نہيں ہوگا۔ مثلا غلطی سے کسی کا قتل کر دے، تو دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح کسی کی گاڑی کا نقصان کر دے، تو اس کا ہرجانہ دینا ہوگا۔
حدیث کے فوائد
- بندوں پر اللہ کا بے پایاں لطف وکرم کہ اس نے مذکورہ احوال میں صادر ہونے والے گناہوں سے درگزر فرمایا ہے۔
- محمد عربی ﷺ اور آپ کی امت پر اللہ کا فضل وکرم۔
- گناہ نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکم نافذ نہيں ہوگا اور ہرجانہ نہيں بھرنا پڑے گا۔ مثلا کوئی وضو کرنا بھول گیا اور یہ سمجھ کر کہ باوضو ہے، نماز پڑھ لی، تو اسے کوئی گناہ تو نہيں ہوگا، لیکن وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنی پڑے گی۔
- زور زبردستی کی صورت میں گناہ نہ ہونے کے لیے اس کی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ مثلا زبردستی کرنے والا وہ کام کرنے پر قادر بھی ہو، جس کی دھمکی وہ دے رہا ہے۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) informs that Allah has pardoned his Ummah in three situations: First: Mistake. It is what a person does unintentionally by mistake. It is when a Muslim does something with a certain intention, but he happens to do something other than what he intended. Second: Forgetfulness. A Muslim remembers something, but he forgets it at the time of doing it. In such a case, he incurs no sin. Third: Coercion. A person may be coerced into doing something, and he is unable to ward off the coercion. In such a case, there is no sin or blame on him. It should be noted that the subject of the Hadīth is related to what is between the servant and his Lord regarding the commission of what is prohibited. As for neglecting an obligation out of forgetfulness, it is not waived. And if a prohibited act results in harm to another person, the right of that person is not waived—for example, if someone kills by mistake, he is liable for the blood money; or if he damages a car by mistake, he is liable for compensation.