(اے عائشہ!) یہ جبریل ہیں، تمھیں سلام کہہ رہے ہیں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وهكذا وقع في بعض روايات الصحيحين: «وبركاته» وفي بعضها بحذفها، وزيادة الثقة مقبولة.
بخاری ومسلم کی بعض روایات میں اسی طرح ”و بركاته“ کے الفاظ کے ساتھ روایت آئی ہے، جب کہ بعض روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ (اور قاعدہ یہ ہے کہ) ثقہ راوی کی زیادتی قابل قبول ہوتی ہے۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4224Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4224)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ام المومنين عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیں بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے (ایک دفعہ) ان سے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ جبریل علیہ السلام ہیں، جو تمھیں سلام کہہ رہے ہیں“۔
ایک اور روایت میں”يُقرِئُكَ السَّلامَ“ کے الفاظ ہیں۔ یعنی تجھے ہدیہ سلام پیش کر رہے اور تمہیں اسلامی سلام کر رہے ہیں۔
ام المومنين عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: "وعليه السلام ورحمة الله وبركاته“ (ان پر بھی سلام)۔
پھر یہ سنت ہے کہ جب کسی شخص کی طرف سے کسی اور شخص کو سلام پہنچایا جائے، تو اسے چاہیے کہ یوں جواب دے: ”وعليه السلام ورحمة الله وبركاته“ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ حدیث اسی پر دلالت کر رہی ہے۔
اگر اس نے یہ کہا کہ: ”عليك وعليه السلام“ (تم پڑ اور اس پر بھی سلامتی ہو) یا کہا کہ ”عليه وعليك السلام ورحمة الله وبركاته“ (اس پر بھی اور تم پر بھی سلامتی ہو، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں) تو یہ بہت اچھا ہے۔ کیوںکہ جس نے سلام پہنچایا، وہ احسان کرنے والا ہے۔ چنانچہ آپ اسے دعا دے کر اس کا بدلہ دیتے ہیں۔
اگر کوئی شخص آپ کو کہے کہ میرا سلام فلاں شخص کو پہنچادینا، تو آیا اس کا پہچانا واجب ہے یا نہیں؟
اس معاملے میں علماء کچھ تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے اسے پہنچانے کی ذمہ داری لی، تو پھر اس کا پہنچانا واجب ہے۔ کیوںکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ (النساء: 58) ”اللہ تعالیٰ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انھیں پہنچاؤ“ اس صورت میں اسے پہنچانے کی آپ نے ذمہ داری اٹھائی ہے (اس لیے اس کا پہچانا ضروری ہے)۔ تاہم اگر اس شخص کے اس طرح کہنے پر کہ ”میرا سلام فلاں کو دینا“، آپ خاموش رہے یا پھر آپ نے اس سے کہا کہ اگر مجھے یاد رہا تو میں پہچا دوں گا یا اسی طرح کی کوئی بات کہہ دی، تو اس سلام کو پہنچانا واجب نہیں ہے، سوائے اس صورت کہ آپ کو یاد آ جائے، اور آپ نے اس سے یہ کہہ رکھا تھا کہ اگر آپ یاد آ گیا، تو آپ اس کو سلام پہنچا دیں گے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ انسان کسی کو اس کا پابند نہ کرے؛ کیوںکہ ہو سکتا ہے کہ یہ اس کے لیے دشواری کا باعث ہو۔ اس کی بجائے اسے یوں کہنا چاہیے کہ: جو میرے بارے پوچھے اسے میرا سلام کہنا۔ ایسا کہنا اچھا ہے۔ تاہم کسی پر اس کی ذمہ داری ڈال دینا بہترنہیں ہے۔ کیوںکہ ہو سکتا ہے کہ وہ شرم کی وجہ سے یہ کہہ دے کہ ٹھیک ہے، میں تمہارا سلام پہنچا دوں گا۔ پھر وہ بھول جائے یا لمبا عرصہ گزر جائے یا اس طرح کا کوئی اور معاملہ ہو جائے (اور یوں وہ سلام نہ پہنچا سکے)۔
Explanation
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) informs us that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told her: “O ‘Ā’ishah, here is Jibrīl giving you greetings of peace.” i.e. he is greeting you with the greeting of Islam. So she said: “and on him be peace, mercy, and blessings of Allah.” Hence, she returned the greeting with a greeting better than it, in compliance with the divine command: {And when you are greeted with a greeting, greet in return with one better than it or [at least] return it [in a like manner]} [Sūrat An-Nisā’: 86]. It is Sunnah that if someone conveyed greetings of peace from one person to another that the latter answers saying: “and on him be peace, mercy, and blessings of Allah.” This is the apparent indication of the above Hadīth by ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her). If the person says: “On you and on him be peace” or “On him and on you be peace, mercy, and blessings of Allah,” then that is also good because the one who relays greetings of peace is doing a righteous deed, therefore you should reward him by supplicating Allah to give him peace, mercy, and blessings. Are you obliged to relay the greetings if someone says: “Send my greetings of peace to so and so”? Scholars elaborated on this matter saying if you verbally commit yourself to do that, then it becomes an obligation on you, because Allah says: {Indeed, Allah commands you to render trusts to whom they are due} [Sūrat An-Nisā’: 58]. However, if someone says: “Send my greetings of peace to so and so” and you remain silent or you said: for instance, “I will if I remember” or something similar, then in this case you are not obliged to relay the greetings except if you remember to do so. Nevertheless, it is better that a person does not burden another with this task as it might be difficult for him. He should, rather, say: “Send my greetings of peace to whoever asks about me.” This is a good thing to do, whereas burdening him with this task is not appropriate because he might feel embarrassed and say: “Yes, I will send your greetings,” but then he might forget, or a long time might elapse before he fulfills this task.