صحیح مسلم
Sahih Muslim

جنت کی دائمی نعمتوں کی ترغیب اور جہنم کے دردناک عذاب سے ڈراوا

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4248Sahih صحیح
عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «يُؤتى بأنعم أهل الدنيا من أهل النار يوم القيامة، فَيُصْبَغُ في النار صَبْغَةً، ثم يقال: يا ابن آدم، هل رأيت خيرًا قطُّ؟ هل مَرَّ بك نَعِيمٌ قطُّ؟ فيقول: لا والله يا رب، وَيُؤْتَى بأشدِّ الناس بُؤسًا في الدنيا من أهل الجَنَّة، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً في الجنَّة، فيقال له: يا ابن آدم، هل رأيت بُؤسًا قط؟ هل مَرَّ بك شِدَّةٌ قط؟ فيقول: لا والله، ما مَرَّ بي بُؤْسٌ قطٌّ، ولا رأيت شِدةً قَطُّ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ عیش وعشرت میں رہنے والے دنیا دار دوزخی کو لایا جائےگا۔ اسے آگ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا اور پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت ملی؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! واللہ کبھی نہیں۔ پھر دنیا میں جس نے سب سے زیادہ مصبیت زدگی میں زندگی گزاری ہو گی، اس جنتی کو لایا جائے گا اور اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا اورپھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی؟ تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! واللہ کبھی نہیں، نہ مجھ پر کبھی کوئی تکلیف آئی اور نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "The wealthiest of people in this world, from among the dwellers of Fire, will be brought on the Day of Judgment and dipped once in the Fire then he will be asked: O son of Adam, Have you ever witnessed any goodness? Have you ever experienced any bliss? He will say: O Lord, by Allah I have not. Then, the most miserable of people in this world, from among the dwellers of Paradise, will be dipped once in Paradise then he will be asked: O son of Adam, have you ever witnessed any misery? Have you ever experienced any hardship? He will say: No by Allah, I have never witnessed any misery nor have I experienced any hardship.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4248

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

قیامت کے دن اہل دنیا میں سے اس شخص کو لایا جائے گا، جس نے سب سے پر تعیش زندگی گزاری ہو گی اور وہ دوزخیوں میں سے ہو گا۔ اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا۔ جب اسے جہنم کی گرمی، تپش اور زہرناکی کا سامنا ہوگا، تو دنیا کی سب عیاشیاں بھول جائے گا۔ اس پر اس کا رب اس سے پوچھے گا، حالاں کہ اسے اس کی حالت کا خوب علم ہو گا کہ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی؟ کیا کبھی کوئی نعمت تم پر آئی؟ وہ کہے گا کہ اے رب! واللہ کبھی نہیں! اس کے مقابلے میں ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ زبوں حال اور مصیبت زدہ، غربت کا مارا اور کسمپرس تھا۔ یہ شخص جنتی ہو گا اور اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا، تو دنیا میں اس نے جس پریشانی، شقاوت، تنگی اور فقر و مصیبت کا سامنا کیا ہو گا، وہ سب بھول جائے گا؛ کیوں کہ اسے اتنا مزہ اور لطف آئے گا جو بیان سے باہر ہے۔ اس پر اس کا رب اس سے پوچھے گا، حالاں کہ اسے اس کے حال کا بخوبی علم ہو گا کہ اے ابن آدم! کیا تم نے کبھی کوئی تنگی دیکھی؟ کیا کبھی تم پر کوئی مصیبت آئی؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! کبھی نہیں! مجھ پر کبھی کوئی تنگی نہیں آئی اور نہ میں نے کبھی کوئی مصیبت دیکھی۔

Explanation

On the Day of Judgment, the one who led the most luxurious life in this world, from among the dwellers of Fire, will be brought and immersed in Hell. Its heat, blaze and scorching fire will make him forget all the worldly pleasures that he enjoyed before. At that point, his Lord, who knows best about his state, will ask him if he has ever witnessed or experienced any goodness or bliss, and he will reply in the negative. On the other hand, the one who led the most miserable life in this world, a life of poverty and need, from among the dwellers of Paradise, will be brought and immersed once in Paradise. The inexpressible joy and pleasure that he finds therein will make him forget all the bitterness, misery, poverty and hardship that he had experienced. His Lord, who knows best about his state, will then ask him if he has ever witnessed or experienced any misery or hardship and he will reply in the negative.

Topics موضوعات