بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اے اللہ کے رسول! اللہ کے حکم سے جہاں آپ مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں بانٹ دیا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4290Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4290)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ کھیت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے تھے۔ مسجد نبوی کے قبلہ والی جانب میں ان کا ایک باغ تھا جس کا پانی بہت میٹھا تھا۔ نبی ﷺ اس باغ میں تشریف لاتے اور وہاں سے پانی تناول فرمایا کرتے تھے۔
جب اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا کہ: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔
تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فوراً نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ اور اپنے اموال میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب بیرحاء کا باغ ہے۔ بیرحاء اس باغ کا نام تھا۔ میں اسے اللہ اور اس کے رسول کے واسطے بطور صدقہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے حیران ہوتے ہوئے فرمایا: بہت خوب۔ یہ بہت نفع بخش مال ہے۔ یہ بہت نفع بخش مال ہے۔ میری رائے میں تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں میں تقسیم کر دو۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور اسے اپنے قریبی رشتے داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔
Explanation
Abu Talhah (may Allah be pleased with him) was the one who owned the most farms in Madīnah from amongst the Ansār, and he had a garden that was opposite to the mosque of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) which had fresh water. The Prophet used to visit the garden and drink the water. When the following Qur’anic verse was revealed: {Never will you attain the good (reward) until you spend (in the way of Allah) from that which you love}, Abu Talhah hastened to see the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and said: "O Messenger of Allah, Allah has reveled the verse {Never will you attain the good (reward) until you spend (in the way of Allah) from that which you love}, and my most beloved possession is Bayrahā’ – which was the name of that garden – so I have given it to you as charity in the way of Allah and his Messenger." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said in amazement: "Well-done! Well done! That is a profitable deal! That is a profitable deal! I suggest that you give it to your nearest relatives." So Abu Talhah (may Allah be pleased with him) divided it among his relatives and paternal cousins.