جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (اور بے جا سوالات نہ کرو)؛ کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں (غیر…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4295Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4295)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا کہ شرعی احکام کی تین قسمیں ہيں: وہ احکام جن سے خاموشی برتی گئی ہے، نواہی، اوامر۔
جہاں تک پہلی قسم یعنی ان احکام کا تعلق ہے، جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے، کوئی حکم وارد نہيں ہوا ہے، تو یاد رہے کہ اشیا میں اصل عدم وجوب ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وجوب یا تحریم نازل نہ ہو جائے، کسی ایسی چيز کے بارے میں سوال نہ کرنا ضروری تھا، جو سامنے نہ آئی ہو۔ کیوں کہ اللہ نے بندوں پر رحمت کے طور پر اسے چھوڑ رکھا تھا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد سوال اگر فتوی لینے یا دین کے ضروری مسائل کا علم حاصل کرنے کے ارادے سے کیا جائے، تو نہ صرف یہ کہ جائز، بلکہ مامور بہ ہے۔ لیکن سوال اگر تعنت اور تکلف کے طور پر ہو، تو اس حدیث کی رو سے اس طرح کا سوال کرنا منع ہوگا۔ کیوں کہ اس طرح کا سوال بالآخر اسی طرح کی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، جو بنی اسرائیل کے لیے پیدا ہوئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ ان کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایسے میں اگر کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے، تو حکم کی تعمیل ہو جاتی، لیکن انھوں نے بال کی کھال نکالنی شروع کی، تو ان کے لیے راہ تنگ ہوتی جلی گئی۔
دوسری قسم منہیات کی ہے۔ یعنی وہ کام جن کے چھوڑنے والے کو ثواب ملے گا اور کرنے والے کو سزا ہوگی۔ لہذا اس طرح کے کاموں سے دور رہنا واجب ہے۔
تیسری قسم اوامر کی ہے۔ یعنی وہ کام جن کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور چھوڑنے والے کو سزا۔ اس طرح کے کاموں کو، جب تک قدرت ہو، کرنا واجب ہے۔
حدیث کے فوائد
- انسان کو ایسے کام میں مشغول ہونا چاہیے، جو زیادہ اہم ہو اور جس کی ضرورت ہو۔ ایسے کاموں سے دامن کش رہنا چاہیے، جن کی فی الحال ضرورت نہ ہو۔ اسی طرح جو چیز پیش نہ آئی ہو، اس کے بارے میں مسئلہ بھی نہيں پوچھنا چاہیے۔
- مسائل کو پیچیدہ کر دینے والے اور شبہات کا دروازہ کھولنے والے ایسے سوالات کرنا حرام ہے، جو کثرت اختلاف کا سبب بنتے ہوں۔
- تمام منہیات کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، کیوں کہ انھیں چھوڑنے میں کوئی مشقت نہيں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے نہی عام ہے۔
- جن کاموں کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھیں کرنے کا حکم استطاعت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ انھیں کرنے میں کبھی مشقت ہوتی ہے یا انہیں کبھی کرنے سے انسان عاجز ہوتا ہے ہے۔
- کثرت سوال کی ممانعت۔ علما نے سوال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم میں دین کے ضروری مسائل سے جڑے ہوئے ایسے سوالات آتے ہیں، جن کا مقصد سیکھنا ہو۔ اس طرح کا سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور صحابہ کے سوالات اسی نوع کے ہوا کرتے تھے۔ دوسری قسم میں ایسے سوالات آتے ہیں، جو تعنت اور تکلف کے طور پر کیے جائيں۔ اس طرح کا سوال کرنا منع ہے۔
- اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
- کثرت سے غیر ضروری سوال اور انبیا سے اختلاف ہلاکت کا سبب ہے۔ خاص طور سے ان امور سے متعلق، جن تک پہنچنا ممکن نہ ہو۔ جیسے غیب کے مسائل، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور قیامت کے دن کے احوال۔
- مشکل مسائل کے بارے میں پوچھنے کی ممانعت۔ اوزاعی کہتے ہيں : جب اللہ بندے کو علم کی برکت سے محروم کرنا چاہتا ہے، تو اس کی زبان پر بہت ساری غلط باتیں ڈال دیتا ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو آپ ىسب سے کم علم پائیں گے۔ ابن وہب کہتے ہيں: میں نے امام مالک کو کہتے ہوئے سنا: علمی جھگڑے آدمی کے دل سے علم کا نور لے جاتے ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) mentioned that the Shariah rulings fall into three categories: what is left unaddressed, prohibitions, and commands.
As for the first: It is what the Shariah has left unaddressed, as there is no ruling, and things, in principle, are not obligatory. During the Prophet's lifetime, it was a must not to ask about something that had not occurred for fear that it might become obligatory or forbidden through revelation, as Allah has left it unaddressed out of mercy towards His slaves. After the Prophet's death, on the other hand, if the question is posed by way of seeking legal opinion or learning about what one needs of the religion, then it is not only permissible but also commanded. However, if the question is posed by way of obstinacy and affectation, then this kind of question should be avoided, and this is what the Hadīth refers to, as it could lead to what happened to the Children of Israel when they were commanded to slaughter a cow. It was sufficient for them to obey the command by slaughtering any cow; however, when they acted obstinately, things were made hard for them.
Second: The prohibitions: It is whatever one is rewarded for abandoning and is punished for doing. So, all prohibitions must be avoided.
Third: The commands: It is whatever one is rewarded for doing and punished for abandoning. The commands must be carried out to the best of one's ability.