صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اس نے پوچھا کہ زمین کے لوگوں میں سب سے زیادہ عالم…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4310Sahih صحیح
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال: «كان فيمن كان قبلكم رجل قتل تسعة وتسعين نفسًا، فسأل عن أعلم أهل الأرض، فَدُلَّ على راهب، فأتاه فقال: إنه قتل تسعة وتسعين نفسا فهل له من توبة؟ فقال: لا، فقتله فكمَّل به مئة، ثم سأل عن أعلم أهل الأرض، فَدُلَّ على رجل عالم، فقال: إنه قتل مائة نفس فهل له من توبة؟ فقال: نعم، ومَنْ يَحُولُ بينه وبين التوبة؟ انْطَلِقْ إلى أرض كذا وكذا فإن بها أناسا يعبدون الله تعالى فاعبد الله معهم، ولا ترجع إلى أرضك فإنها أرض سوء، فانطلق حتى إذا نَصَفَ الطريقَ أتاه الموت، فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب، فقالت ملائكة الرحمة: جاء تائبا، مُقْبِلا بقلبه إلى الله تعالى ، وقالت ملائكة العذاب: إنه لم يعمل خيرا قط، فأتاهم ملك في صورة آدمي فجعلوه بينهم -أي حكمًا- فقال: قِيسُوا ما بين الأرضين فإلى أَيَّتِهِمَا كان أدنى فهو له، فقاسوا فوجدوه أدنى إلى الأرض التي أراد، فقبضته ملائكة الرحمة».
وفي رواية في الصحيح: «فكان إلى القرية الصالحة أقرب بشبر فجعل من أهلها».
وفي رواية في الصحيح: «فأوحى الله تعالى إلى هذه أن تَبَاعَدِي، وإلى هذه أن تَقَرَّبِي، وقال: قيسوا ما بينهما، فوجدوه إلى هذه أقرب بشبر فغُفِرَ له».
وفي رواية: «فَنَأَى بصدره نحوها».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اس نے پوچھا کہ روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ چنانچہ اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا کہ نہیں! (اس کی توبہ قبول نہ ہو گی) تو اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا اور یوں سو (100) قتل پورے کر دیے۔ پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ زمین میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک عالم کے بارے میں بتایا (تو وہ اس کے پاس گیا) اور پوچھا کہ اس نے سو قتل کیے ہیں، کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ وہ بولا کہ ہاں ہے اور آخر توبہ کرنے میں کون سی شے حائل ہو سکتی ہے؟ تو فلاں علاقے میں جا، وہاں کچھ لوگ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ تو بھی جا کر ان کے ساتھ عبادت کر اور اپنے علاقے میں واپس نہ جانا؛ کیوں کہ وہ بری جگہ ہے۔ چنانچہ وہ اس علاقے کی طرف چل پڑا، جب آدھا سفر طے کر لیا، تو اس کو موت آ گئی۔ اب عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوگیا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے صدق دل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آ رہا تھا۔ جب کہ عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی! آخر ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا اور دونوں فرشتوں نے اسے حکم مان لیا۔ اس نے کہا کہ دونوں طرف کی زمین ناپو، یہ جدھر سے قریب ہوگا، اسے ادھر ہی کا مان لیا جائے گا۔ سو انھوں نے زمین کو ناپا تو اسے اس زمین سے زیادہ قریب پایا، جس کا اس نے ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتے اس کو لے گئے"۔
ایک اور روایت میں ہے: ”وہ اس صالح بستی سے ایک بالشت کی مقدار زیادہ قریب تھا۔ چنانچہ اسے انہی لوگوں میں شامل کر دیا گیا“۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی نے اس زمین کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ تو دور ہو جا اور اس زمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہو جا۔ اور کہاکہ ان دونوں کے مایبن کی مسافت کو ناپو۔ جب انھوں نے ناپا تو معلوم ہوا کہ وہ اس زمین سے ایک بالشت کی مقدار زیادہ قریب ہے۔ چنانچہ اس کی مغفرت کر دی گئی۔
ايک دوسری روایت میں ہے: اس نے اپنے سینے کو کھینچ کر اس زمین کی طرف کر دیا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Sa‘īd al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “Among those who lived before you, there was a man who had killed ninety-nine people. He asked about the most knowledgeable person on earth and was guided to a monk. When he went to him, he informed him that he had killed ninety-nine people and asked if his repentance could be accepted. The monk replied in the negative, so the man killed him and made him the hundredth. After that, the man once again asked about the most knowledgeable person on earth and was guided to a scholar. He informed him of his hundred murders and asked if there was a chance for his repentance to be accepted. The scholar replied in the affirmative and said: 'Who can place a barrier between him and the repentance?' He advised him to travel to a certain land where people were worshiping Allah, the Almighty, and asked him to join them in their worship and not to return to his land, which was an evil land. The man listened to the scholar’s advice and set out from his land, when he reached the middle of the way death approached him. The angels of mercy and the angels of torment disputed over the man. The angels of mercy said: 'He came with a repenting heart to Allah, the Almighty.' The angels of torment said: 'He has never done anything good in his life.' Another angel then came in the form of a human being and they agreed to take him as an arbitrator. He said: 'Measure the distance between the man and the two lands and see to which one he is closer.' They did that and found him closer to the land he was traveling to, so the angels of mercy took his soul.” Another authentic narration reads: “He was one span closer to the land of piety, so he was considered one of its people.” The wording of another authentic narration reads: “Allah, the Almighty, ordered this land (evil place) to go far away and the other land (good place) to get closer and on measuring the distances, he was found one span closer to the village to which he intended to go and so he was forgiven.”
Another narration reads: “He directed his chest towards it (the village he intended to go to).”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4310

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہم سے پہلی امتوں میں سے کسی امت میں ایک آدمی تھا، جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کر رکھا تھا۔ احساس ندامت سے مغلوب ہو کر اس نے لوگوں سے علاقے کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا، تاکہ اس سے اپنے بارے میں دریافت کر سکے کہ کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس کی رہ نمائی ایک شخص کی طرف کی گئی، جو تھا تو عابد، لیکن اس کے پاس علم نہیں تھا۔ جب اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، تو کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ راہب کو یہ گناہ بہت بڑا لگا اور وہ کہنے لگا کہ تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ہے۔ اس پر وہ شخص غصہ میں آ گیا اور بے کلی میں اس نے راہب کو بھی قتل کر دیا اور اس طرح سو قتل پورے کر دیے۔ پھر دوبارہ اس نے علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اسے ایک عالم شخص کا پتہ بتایا گیا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے سو افراد کو قتل کیا ہے، کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اکیوں نہیں! اس کے اور توبہ کے مابین کون سی شے حائل ہو سکتی ہے؟ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن فلاں بستی میں جاؤ۔ اس میں کچھ لوگ ہیں، جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ جس علاقے میں تھا، شاید وہ دار الکفر تھا۔ واللہ اعلم۔ اس لیے اس نے اس سے کہا کہ اپنے دین کی خاطر وہ اس بستی کی طرف ہجرت کر جائے، جس میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ وہ شخص پشیمان و تائب ہو کر اپنے دین کی خاطر اس علاقے کی طرف ہجرت کر گیا، جس میں اللہ کی عبادت کرنے والے لوگ تھے۔ آدھا راستہ طے کیا تھا کہ اس کی موت آ گئی۔ اب اس کے بارے میں عذاب اور رحمت کے فرشتوں کے مابین اختلاف ہو گیا؛ رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے توبہ کر لی تھی اور وہ نادم و تائب ہو کر آ رہا تھا (لیکن عذاب کے فرشتے اسے اپنے ساتھ کے جانے پر مصر تھے)۔ اس طرح ان کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ایک فرشتہ بھیجا؛ تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے۔ اس نے کہا: دونوں جانب کی مسافت کی پیمائش کرو۔ جس علاقے سے وہ زیادہ قریب ہو، اسے اس کے باشندوں میں سے گردانا جائے گا۔ یعنی اگر وہ دار الکفر کے زیادہ قریب ہو، تو عذاب کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے اور اگر دار الایمان کے زیادہ قریب ہو، تو رحمت کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں کی مسافت کو ناپا، تو جس علاقے کی طرف وہ جا رہا تھا، یعنی دارالایمان کی جانب، وہ اس علاقے کی بہ نسبت ایک بالشت قریب نکلا، جہاں سے وہ ہجرت کر کے آ رہا تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کی۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that among those nations that lived before there was a man who had killed ninety-nine people. He regretted what he had done and asked to be guided to the most knowledgeable of people to see if his repentance could be accepted. He found a worshiper, with little knowledge, who felt that the man’s sin was too serious to be forgiven, so told him: Your repentance is not going to be accepted. The man got angry and killed the monk. Then, he once again asked of the most knowledgeable of people. He found a scholar who assured him that no one could stand between him and repentance. Moreover, he advised him to travel to a certain village, where people were devoted to worshiping Allah, and to leave his own village, which apparently was a land of disbelief. The man listened to the scholar’s advice and started his journey to the of believers, when he was in the middle of the way, death approached him. Here, a dispute arose between the angels of mercy and the angels of punishment. Allah sent them another angel to settle that dispute. He suggested measuring the distance between the man and both villages and if he was found closer to the land of disbelief, then his soul should be taken by the angels of punishment. and if he was found closer to the land of faith, then the angels of mercy should take his soul. Finally, the man was found one span closer to the land of faith and thus his soul was taken by the angels of mercy.

Topics موضوعات