تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اس نے پوچھا کہ زمین کے لوگوں میں سب سے زیادہ عالم…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية في الصحيح: «فكان إلى القرية الصالحة أقرب بشبر فجعل من أهلها».
وفي رواية في الصحيح: «فأوحى الله تعالى إلى هذه أن تَبَاعَدِي، وإلى هذه أن تَقَرَّبِي، وقال: قيسوا ما بينهما، فوجدوه إلى هذه أقرب بشبر فغُفِرَ له».
وفي رواية: «فَنَأَى بصدره نحوها».
ایک اور روایت میں ہے: ”وہ اس صالح بستی سے ایک بالشت کی مقدار زیادہ قریب تھا۔ چنانچہ اسے انہی لوگوں میں شامل کر دیا گیا“۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی نے اس زمین کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ تو دور ہو جا اور اس زمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہو جا۔ اور کہاکہ ان دونوں کے مایبن کی مسافت کو ناپو۔ جب انھوں نے ناپا تو معلوم ہوا کہ وہ اس زمین سے ایک بالشت کی مقدار زیادہ قریب ہے۔ چنانچہ اس کی مغفرت کر دی گئی۔
ايک دوسری روایت میں ہے: اس نے اپنے سینے کو کھینچ کر اس زمین کی طرف کر دیا۔
Another narration reads: “He directed his chest towards it (the village he intended to go to).”
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4310Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4310)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہم سے پہلی امتوں میں سے کسی امت میں ایک آدمی تھا، جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کر رکھا تھا۔ احساس ندامت سے مغلوب ہو کر اس نے لوگوں سے علاقے کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا، تاکہ اس سے اپنے بارے میں دریافت کر سکے کہ کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس کی رہ نمائی ایک شخص کی طرف کی گئی، جو تھا تو عابد، لیکن اس کے پاس علم نہیں تھا۔ جب اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، تو کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ راہب کو یہ گناہ بہت بڑا لگا اور وہ کہنے لگا کہ تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ہے۔ اس پر وہ شخص غصہ میں آ گیا اور بے کلی میں اس نے راہب کو بھی قتل کر دیا اور اس طرح سو قتل پورے کر دیے۔ پھر دوبارہ اس نے علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اسے ایک عالم شخص کا پتہ بتایا گیا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے سو افراد کو قتل کیا ہے، کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اکیوں نہیں! اس کے اور توبہ کے مابین کون سی شے حائل ہو سکتی ہے؟ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن فلاں بستی میں جاؤ۔ اس میں کچھ لوگ ہیں، جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ جس علاقے میں تھا، شاید وہ دار الکفر تھا۔ واللہ اعلم۔ اس لیے اس نے اس سے کہا کہ اپنے دین کی خاطر وہ اس بستی کی طرف ہجرت کر جائے، جس میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ وہ شخص پشیمان و تائب ہو کر اپنے دین کی خاطر اس علاقے کی طرف ہجرت کر گیا، جس میں اللہ کی عبادت کرنے والے لوگ تھے۔ آدھا راستہ طے کیا تھا کہ اس کی موت آ گئی۔ اب اس کے بارے میں عذاب اور رحمت کے فرشتوں کے مابین اختلاف ہو گیا؛ رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے توبہ کر لی تھی اور وہ نادم و تائب ہو کر آ رہا تھا (لیکن عذاب کے فرشتے اسے اپنے ساتھ کے جانے پر مصر تھے)۔ اس طرح ان کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ایک فرشتہ بھیجا؛ تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے۔ اس نے کہا: دونوں جانب کی مسافت کی پیمائش کرو۔ جس علاقے سے وہ زیادہ قریب ہو، اسے اس کے باشندوں میں سے گردانا جائے گا۔ یعنی اگر وہ دار الکفر کے زیادہ قریب ہو، تو عذاب کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے اور اگر دار الایمان کے زیادہ قریب ہو، تو رحمت کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں کی مسافت کو ناپا، تو جس علاقے کی طرف وہ جا رہا تھا، یعنی دارالایمان کی جانب، وہ اس علاقے کی بہ نسبت ایک بالشت قریب نکلا، جہاں سے وہ ہجرت کر کے آ رہا تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کی۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that among those nations that lived before there was a man who had killed ninety-nine people. He regretted what he had done and asked to be guided to the most knowledgeable of people to see if his repentance could be accepted. He found a worshiper, with little knowledge, who felt that the man’s sin was too serious to be forgiven, so told him: Your repentance is not going to be accepted. The man got angry and killed the monk. Then, he once again asked of the most knowledgeable of people. He found a scholar who assured him that no one could stand between him and repentance. Moreover, he advised him to travel to a certain village, where people were devoted to worshiping Allah, and to leave his own village, which apparently was a land of disbelief. The man listened to the scholar’s advice and started his journey to the of believers, when he was in the middle of the way, death approached him. Here, a dispute arose between the angels of mercy and the angels of punishment. Allah sent them another angel to settle that dispute. He suggested measuring the distance between the man and both villages and if he was found closer to the land of disbelief, then his soul should be taken by the angels of punishment. and if he was found closer to the land of faith, then the angels of mercy should take his soul. Finally, the man was found one span closer to the land of faith and thus his soul was taken by the angels of mercy.