Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

اللہ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ اچانک مل جائے جسے بےآب…

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «للَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ، سَقَطَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَقَدْ أَضَلَّهُ فِي أَرْضِ فَلاَةٍ».
وفي رواية: «لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً، فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، وقَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ! أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَح».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ اچانک مل جائے جسے وہ بےآب و گیاہ چٹیل میدان میں گم کربیٹھا ہو“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”الله اپنے بندے کی توبہ کی وجہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بے آب وگیاہ چٹیل میدان میں اپنی سواری پر سفر کر رہا ہو کہ اس کی سواری اس سے گم ہو جائے اور اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اسی پر ہو۔ وہ اس کے ملنے سے مایوس ہو کر ایک درخت کے نیچے آکر اس کے سائے میں لیٹ جائے اور اسے اپنی سواری کے مل جانے کی کوئی امید نہ رہے۔ ایسے میں اچانک اس کی سواری اس کے سامنے آ کھڑی ہو۔ اور وہ اس کی نکیل پکڑ کر فرط مسرت سے یوں کہہ بیٹھے کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب! یعنی خوشی کی شدت کی وجہ سے وہ غلطی سے ایسا کہہ دے“۔
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Allah is happier with the repentance of His slave than one of you is with finding his riding camel after having lost it in a desert."
Another narration reads: "Verily, Allah is happier with the repentance of His slave when he turns in repentance to Him than one of you who was on his camel in a desert and it got lost and was carrying his provision of food and drink. He, having lost all hope (of finding it), lies down in the shade of a tree feeling hopeless; when all of a sudden he finds it (his camel) standing before him. He takes hold of its reins and then out of boundless joy blurts out: 'O Allah, You are my slave and I am Your Lord!' He makes this mistake out of extreme joy."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4313

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جب کوئی بندہ اللہ کی اطاعت اور اس کا حکم بجا لا کر اخلاصِ قلب کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ اس بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بے آگ وگیاہ چٹیل میدان میں ہو اور اس کے ارد گرد کوئی اور شخص نہ ہو، نہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء ہوں اور نہ لوگ اور وہاں اس کا اونٹ گم ہو جائے۔ وہ اسے تلاش کرے لیکن اسے نہ ملے اور پھر ایک درخت کے نیچے جا کر سو جائے اور موت کا انتظار کرنا شروع کر دے۔ وہ اپنے اونٹ سے اور اپنی زندگی سے ناامید ہو چکا ہو کیونکہ اس کے کھانے پینے کا سامان اس کے اونٹ پر ہی لدا تھا اور وہ گم ہو چکا ہے۔ وہ اسی حال میں ہو کہ اچانک اسے اس کا اونٹ مل جائے بایں طور کہ اس کی نکیل اس درخت کے ساتھ پھنسی ہو جس کے تلے وہ سو رہا تھا۔ اس شخص کی خوشی کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا تصور صرف وہی کر سکتا جو خود کبھی اس قسم کی صورت حال سے گزرا چکا ہو۔ کیونکہ یہ بہت بڑی خوشی ہے۔ موت کے منہ میں جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی کی خوشی حاصل ہوئی اسی لیے اس نے نکیل پکڑ کر کہا کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں‘‘۔ وہ چاہتا تھا کہ اللہ کی تعریف بیان کرے اور یوں کہے: اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ لیکن خوشی کی شدت کی وجہ سے وہ غلطی کر بیٹھے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs us that Allah is extremely pleased with His slave's return to Him by obeying Him and fulfilling His commands, sincerely from his heart. His pleasure is more than the pleasure of a person who was in a desert with no one around him – no water, food, or people – and he lost his camel. He looked for it but failed to find it. So he went to lie under a tree awaiting death. He lost hope in finding his camel and lost hope in life, for his food and drink were on the back of his lost camel. Then suddenly, in this state of hopelessness, he finds his camel right in front of him, its reins attached to the same tree he slept beneath. What is comparable to such happiness? No one can truly relate to such joy except one who was in the same situation. Indeed, it is great joy; joy of life after death. For this reason he took hold of its reins and cried, "O Allah, You are my slave and I am Your Lord!" He wanted to praise Allah saying: "O Allah, You are my Lord and I am Your slave!" but due to his extreme joy, he confused his words.

Topics موضوعات