صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب رکھا اور منی کو دائیں جانب۔ پھر فرمایا کہ یہی وہ جگہ ہے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4448Sahih صحیح
عن عبد الرحمن بن يزيد النَّخَعِي: «أنه حج مع ابن مسعود فرآه يَرمي الجَمْرَةَ الكبرى بسبع حصَيات، فجعل البيت عن يساره، ومِنى عن يمينه، ثم قال: هذا مَقَامُ الذي أُنْزِلَتْ عليه سورة البقرة صلى الله عليه وسلم ».
عبد الرحمن بن يزيد نخعي بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا۔ انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو جمرہ عقبہ کی سات کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ بیت اللہ ان کے بائیں جانب تھا اور منی دائیں جانب۔ انھوں نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ ہے، جہاں آپ ﷺ پر سورۂ بقرۃ نازل ہوئی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdur-Rahmān ibn Yazīd An-Nakha‘i reported that he made Hajj with Ibn Mas‘ūd and he saw him stoning Jamrat al-‘Aqabah with seven stones; he stood such that the Ka‘bah was on his left and Mina was on his right then he said: "This is the standing place of the one to whom Sūrat al-Baqarah was revealed."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4448

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

قربانی کے دن اور ایام تشریق کے دوران کنکریاں مارنا ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے فروتنی کا اظہار، اس کے احکامات کی بجا آوری اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی سنت کی پیروی ہوتی ہے۔ دس ذو الحج کو حاجی جو سب سے پہلا کام کرتا ہے وہ جمرہ کبری کی رمی ہے تا کہ اس دن کے عظیم اعمال کا آغاز اس سے ہو۔ چنانچہ وہ اس جگہ کھڑا ہوتا ہے جہاں نبی ﷺ کھڑے ہوئے تھے بایں طور کہ کعبہ مکرمہ اس کے بائیں جانب ہوتا ہے اور منیٰ دائیں جانب۔ وہ جمرہ کبری کا رخ کر کے اس پر سات کنکریاں مارتا ہے اور ہرایک کے ساتھ تکبیر کہتا ہے۔ جیسا کہ بالکل اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ پر سورۃ بقرہ نازل ہوئی تھی۔

Explanation

Stoning the Jamarāt on the Day of Nahr (10th of Dhu al-Hijjah) and the Days of Tashrīq (11th-13th of Dhu al-Hijjah) is a great act of worship that implies submission to Allah, the Almighty, compliance with His commands, and following Prophet Ibrahīm (peace be upon him). The first ritual that the pilgrim starts with on the Day of Nahr is stoning Jamrat al-‘Aqabah to initiate the great acts on that day. One stands the way the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did by making the Ka‘bah on his left and Mina on his right, then facing the Jamrat and throwing seven stones at it while making Takbīr with every stone thrown. Ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) stood that way and swore that that was the standing place of the one to whom Sūrat al-Baqarah was revealed, in reference to the Prophet (may Allah's peace and blessing be upon him).

Topics موضوعات