صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی لیکن تمہیں اجازت نہیں دی ہے۔ اور مجھے بھی صرٖف دن کی ایک ساعت کے لیے اجازت…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4491Sahih صحیح
عن أبي شُريح -خُوَيْلِدِ بن عمرو الخُزَاعي العدوي رضي الله عنه-: أنه قال لعمرو بن سعيد بن العاص -وهو يبعث الْبُعُوثَ إلى مكة- ائْذَنْ لي أيها الأمير أن أُحَدِّثَكَ قولا قام به رسول الله صلى الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح؛ فسمعَتْه أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قلبي، وأبصرته عيناي حين تكلم به أنه حمد الله وأثنى عليه، ثم قال: «إن مكة حَرَّمَهَا الله تعالى، ولم يُحَرِّمْهَا الناس، فلا يحل لِامْرِئٍ يؤمن بالله واليوم الآخر: أن يسفك بها دمًا، ولا يعضد بها شجرة، فإن أحد ترخص بقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقولوا: إنَّ الله أذِن لرسوله ولم يأذن لكم. وإنما أذِنَ لي ساعة من نهار، وقد عادت حُرْمَتُهَا اليوم كَحُرمتها بالأمْسِ، فَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الغائب».
فقيل لأبي شريح: ما قال لك؟ قال: أنا أعلم بذلك منك يا أبا شريح، إن الحرم لَا يُعِيذُ عاصيا، وَلَا فَارًّا بدمٍ، ولَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ.
ابوشریح خویلد بن عمرو الخزاعی العدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید بن العاص سے، جب کہ وہ مکہ میں فوجیں بھیج رہا تھا، کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ سے وہ بات بیان کروں جس کو رسول کریم ﷺ نے فتح مکہ کے اگلے دن (ایک خطبہ کے دوران) ارشاد فرمایا تھا، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ بات فرماتے دیکھا ہے! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرم (حرمت والا شہر) بنایا ہے لوگوں نے اسے حرم نہیں ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس میں خونریزی کرے، یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی شخص اس بنا پر رخصت اختیار کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں قتال کیا تو اس سے کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی لیکن تمہیں اجازت نہیں دی ہے۔ اور مجھے بھی صرٖف دن کی ایک ساعت کے لیے اجازت ملی تھی۔ پھر آج اس کی حرمت اسی طرح پلٹ آئی جس طرح کل اس کی حرمت تھی۔ اب جو ہاں حاضر ہے اسےچاہئے کہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ ابوشریح سے پوچھا گیا: عمرو بن سعید نے (یہ حدیث سن کر) آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے بتایا کہ عمرو نے کہا: اے ابو شریح! میں یہ حدیث تم سے زیادہ جانتا ہوں مگر حرم کسی نافرمان کو، یا خون کر کے بھاگے ہوئے یا کوئی جرم کر کے بھاگے ہوئے کو پناہ نہیں دیتا ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Shurayh Khuwaylid ibn ‘Amr al-Khuzā‘i al-‘Adawi (may Allah be pleased with him) reported that he said to ‘Amr ibn Sa‘īd ibn al-‘Ās, when the latter was sending troops to Makkah (to fight ‘Abdullāh ibn Az-Zubayr): "O Commander, allow me to tell you what the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said on the day following the Conquest of Makkah. My ears heard it, my heart understood it thoroughly, and I saw it with my own eyes when he spoke it. He glorified Allah and praised Him then said: 'It was Allah, the Almighty, and not the people, who made Makkah a sanctuary, so it is impermissible for anyone who believes in Allah and the Last Day to shed blood in it or to cut down its trees. If someone argues that fighting in it is permissible because the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) fought in it, say to him: 'Allah gave permission to His Messenger and did not give permission to you.' Allah only gave me permission for a few hours of daytime, and its sanctity today is as it was yesterday. So, let those who are present inform those who are absent (of what I just said)."
Abu Shurayh was asked: "What did he say to you?" He replied: He said: "O Abu Shurayh, I know better than you in this respect. Makkah does not give protection to a sinner, a fugitive murderer, or a thief."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4491

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمرو بن سعید بن العاص جو کہ اشدق کے نام سے مشہور تھا، اس وقت یزید بن معاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا امیر (گورنر) مقرر تھا۔ اس نے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ پر لشکر کشی کا ارادہ کیا، تو ابو شُریح خویلد بن عمرو الخزاعی اسے اس بابت نصیحت کرنے آئے۔
چونکہ جسے نصیحت کی جارہی تھی وہ ان کے دل میں گراں قدر تھا، اس لئے ابو شریح نے حکمت اور دانائی کے پیشِ نظر اس کے ساتھ بات کرنے میں نرمی برتی۔ تاکہ نصیحت قبول کر لی جائے اور اس کا ردِّ عمل بُرا نہ ہو۔ اس لیے ابو شُریح نے اس سے اس لشکر کشی کے بارے میں نصیحت کرنے کی اجازت چاہی جس کے لیے وہ کوشاں تھا، اور اسے بتلایا کہ وہ اس کے سامنے جو حدیث پیش کرنے جا رہے ہیں وہ بالکل صحیح ہے اور انہیں اس کی سچائی پر پورا بھروسہ ہے، اس لیے کہ اسے ان کے کانوں نے سنا ہے، ان کے دل نے یاد رکھا ہے اور ان کی آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت اللہ کے رسول ﷺ یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔ تو عمرو بن سعید نے انہیں بات کرنے کی اجازت دے دی۔
ابو شُریح نے کہا کہ فتح مکہ کی صبح آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: مکہ کو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کے دن ہی حرام (حرمت والا) بنایا ہے۔ اس لئے اس کی تعظیم و تقدیس بہت قدیم ہے، اسے لوگوں نے حرام نہیں کیاہے جیسے وہ عارضی محفوظ علاقے، چراگاہ اور پنگھٹ کو حرام (ممنوع) قرار دیتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تحریم کا ذمہ لیا ہے، تاکہ اس کی عظمت زیادہ ہو۔
لہٰذا جب اس کی حرمت قدیم اور اللہ کی طرف سے ہے، تو پھر اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے، اگر اسے اپنے ایمان کی حفاظت کا خیال ہے، جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے یا اس میں کوئی درخت کاٹے۔
اگر کوئی شخص فتح مکہ کے دن میرے قتال کی وجہ سے رخصت اختیار کرے تو اس سے کہو: تم اللہ کے رسول ﷺ کی طرح نہیں ہو۔ کیونکہ آپ ﷺ کو اس کی اجازت دی گئی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
(آپ ﷺ ) کے لیے بھی اس میں قتال کرنا ہمیشہ کے لئے حلال نہیں کیا گیا، بلکہ بقدر ضرورت صرف دن کی ایک گھڑی میں آپ کو اجازت دی گئی تھی، پھر آج اس کی حرمت پہلے ہی کی طرح پلٹ آئی۔ لہٰذا حاضر کو چاہیئے کہ وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے۔
لہٰذا اے امیر! میں نے تمہیں یہ پیغام پہنچادیا، کیونکہ فتح مکہ کی صبح اس حدیث کے بیان کے وقت میں حاضر تھا، اور آپ وہاں موجود نہیں تھے۔
لوگوں نے ابوشُریح سے کہا کہ عمرو نے تمہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے فرمایا: اس نے مجھے اس طرح جواب دیا: اے ابو شُریح! میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی نافرمان یا کوئی جرم کر کے بھاگے ہوئے کو پناہ نہیں دیتا ہے۔
اس نے حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کی اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کے لئے لشکر کشی سے باز نہ آٰیا، بلکہ اسے جاری رکھا۔

Explanation

‘Amr ibn Sa‘īd ibn al-‘Ās, who was known as Al-Ashdaq, wanted to prepare an army to march to Makkah, when he was governor of Madīnah during the Caliphate of Yazīd ibn Mu‘āwiyah. His purpose was to fight ‘Abdullāh ibn Az-Zubayr, (may Allah be pleased with him). So Abu Shurayh, whose full name is Khuwaylid ibn ‘Amr al-Khuzā‘i, went to him to offer him advice in this respect.
However, since his advice was directed at a person who has high regard of himself, Abu Shurayh was gentle and softened his speech when talking to him, out of wisdom and intelligence, so that the chances of his advice being accepted are higher and he would be safe from any unfavorable consequences. He asked him permission if he could give him advice regarding the army he was preparing to send. He told him that he was certain of the authenticity of this Hadīth that he was about to relate to him, and confident of its truthfulness since he was present when the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said it. His ears heard it, his heart understood it, and his eyes saw it. So ‘Amr ibn Sa‘īd gave him permission to speak.
Abu Shurayh said that on the morning after the Conquest of Makkah, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) praised Allah and glorified him, then he said: "Allah has made Makkah sacred since the day He created the heavens and the earth," i.e. its sacredness is ancient. It was not the people who made it temporarily sacred as they do with private property or grazing land or water sources. Rather, it was Allah who made it sacred so that its sanctity becomes greater and more emphasized.
So if Makkah’s sacredness was ancient and decreed by Allah, then it is not permissible for anyone who believes in Allah and the Last Day – if he is keen on preserving his faith – to spill the blood of anyone in it or cut down any of its trees.
If anyone comes along and uses my fighting in Makkah as a justification, then say to him: You are not like the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). He was given permission, but you were not, keeping in mind that fighting in Makkah was not made lawful for him at all times; rather, it was only a few hours of daytime in proportion to the need to fight. After that need was fulfilled, its sacredness was restored. So let those who are present relay that to those who are absent.
For this reason, I am relaying this to you, O Commander, because I witnessed and heard this from the Messenger of Allah on the morning after the conquest, and you did not witness it.
The People asked Abu Shurayh: "What did ‘Amr answer you?" He replied: "He said to me: 'I have more knowledge of this than you, O Abu Shurayh. Indeed the Sacred Precinct does not protect a sinner or a fugitive thief.'"
So he challenged the Hadīth with his opinion, and he did not refrain from sending the army to fight Ibn Az-Zubayr; rather, he proceeded with his plan.

Topics موضوعات