سحری کھایا کرو، اس لیے کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4498Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4498)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سحری کرنے کی ترغیب دی ہے۔ سحری کہتے ہیں روزے کی تیاری کے طور پر رات کے آخری حصے میں کھانے کو۔ ترغیب دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں خیر کثیر یعنی بڑا اجر و ثواب، رات کے آخری حصے میں دعا کے لیے جاگنے، روزہ رکھنے کی طاقت حاصل کرنے، اپنے اندر روزے کے لیے چستی پیدا کرنے اور روزہ کی مشقت کو کم کرنے جیسی چيزیں پائی جاتی ہیں۔
حدیث کے فوائد
- شرعی حکم کو بجا لاتے ہوئے سحری کرنا مستحب ہے۔
- ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں: سحری کی برکت متعدد جہات سے حاصل ہوتی ہے۔ چناں چہ سحری کرنا اتباع سنت ہے، اہل کتاب کی مخالفت ہے، اس سے عبادت کے لئے قوت حاصل ہوتی ہے، جسم کے اندر چستی آتی ہے، بھوک کے نتیجے میں مہمیز پانے والی بدخلقی دور ہوتی ہے، یہ سحری کے وقت کچھ مانگنے والے یا ساتھ میں سحری کرنے کے لیے حاضر ہونے والے پر صدقہ کرنے کا سبب ہے، دعا کی قبولیت کے وقت ذکر ودعا کا سبب ہے اور جس نے سونے سے پہلے روزے کی نیت نہيں کی، اسے نیت کر لینے کا موقع فراہم ہوجاتا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا یہ حسن ہے کہ آپ حکم کے ساتھ اس کی حکمت بھی بیان کردیتے، تاکہ دل میں انشراح پیدا ہو اور شریعت کی رفعت و بلندی سمجھ میں آئے۔
- ابن حجر کہتے ہيں: کھانے پینے کی کوئی بھی تھوڑی سی چیز لے لینے سے سحری ہو جاتی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) encouraged Sahūr, which is eating in the last part of the night in preparation for fasting, because it contains (blessing), i.e., a great deal of goodness in terms of recompense and reward, waking up in the last part of the night for supplication, gaining strength for fasting, being energized for it, and reducing its hardship.