صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے رکھتے تھے۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4528Sahih صحیح
عن عبد الله بن حنين أن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رضي الله عنهما اختلفا بِالْأَبْوَاءِ:
فقال ابن عباس: يغسل الْمُحْرِمُ رأسه.
وقال الْمِسْوَر: لا يغسل رأسه.
قال: فأرسلني ابن عباس إلى أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه فوَجَدْتُهُ يغتسل بين الْقَرْنَيْنِ، وهو يستر بثوب، فَسَلَّمْتُ عليه، فقال: من هذا؟ فقلت: أنا عبد الله بن حُنَيْنٍ، أرسلني إليك ابن عباس، يسألك: كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغسل رأسه وهو مُحرِمٌ؟ فوضع أبو أيوب يده على الثوب، فَطَأْطَأَهُ، حتى بَدَا لي رأسه، ثم قال لإنسان يَصُبُّ عليه الماء: اصْبُبْ، فَصَبَّ على رأسه، ثم حَرَّكَ رأسه بيديه، فأقبل بهما وَأَدْبَرَ. ثم قال: هكذا رأيته صلى الله عليه وسلم يغتسل».
وفي رواية: «فقال المسور لابن عباس: لَا أُمَارِيكَ أبدًا».
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا مقام ابواء میں (ایک مسئلہ پر) اختلاف ہوا۔
ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے۔
مسور رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ محرم شخص اپنا سر نہیں دھو سکتا۔
چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے یہاں (مسئلہ پوچھنے کے لیے) بھیجا، میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کنوئیں کے دو لکڑیوں کے بیچ غسل کر رہے تھے اور ایک کپڑے سے انہوں نے پردہ کر رکھا تھا۔ میں نے پہنچ کر سلام کیا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ کون ہو؟ میں نے عرض کی کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں، آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے، یہ دریافت کرنے کے لیے کہ احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺ سر مبارک کس طرح دھوتے تھے؟ یہ سن کر انہوں نے کپڑے پر ہاتھ رکھ کراسے نیچے کیا یہاں تک کہ آپ کا سر مجھے دکھائی دینے لگا۔ جو شخص ان کے بدن پر پانی ڈال رہا تھا، اس سے انہوں نے پانی ڈالنے کے لیے کہا۔ اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھ سے ہلایا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے اور پھر پیچھے لائے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح دھوتے دیکھا تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ مسور رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں تم سے کبھی اختلاف نہیں کروں گا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Abbās and Al-Miswar ibn Makhramah (may Allah be pleased with both of them) were at Al-Abwā' when they disagreed over a matter. Ibn ‘Abbās said: "The one in the state of Ihrām may wash his head." Al-Miswar said: "He may not wash his head." Ibn ‘Abbās sent me (the narrator) to Abu Ayyūb al-Ansāri (may Allah be pleased with him) to ask him about that. I found him taking a ritual bath between the two posts of a well, screened with a cloth. I greeted him and he said: "Who is that?" I replied: "‘Abdullāh ibn Hunayn. ‘Abdullāh ibn ‘Abbās sent me to ask you how the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) used to wash his head while in the state of Ihrām. Abu Ayyūb put his hand on the cloth and lowered it until I could see his head, then he said to the person who was pouring out the water for him: 'Pour', and he poured some over his head. He passed his hands over his head from back to front then from front to back and said: "I saw the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) washing it like this." Another narration adds: So Al-Miswar said to Ibn ‘Abbās: "I will never argue with you again."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4528

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے مابین اس بات پر گفتگو چلی کہ آیا محرم شخص غسل کرتے ہوئے اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں جس بات میں اشکال تھا وہ یہ تھی کہ اگر اس نے اپنے سر کے بالوں کو حرکت دی تو ممکن ہے اس سے سر کے کچھ بال ٹوٹ جائیں۔ چنانچہ عبد اللہ بن حنین ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ وہ اس وقت غسل کر رہے تھے۔ انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف بھیجا ہے اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے غسل فرمایا کرتے تھے۔؟ اس پر ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اس کپڑے کو کچھ نیچے کیا جو آپ کو اوٹ فراہم کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ کا سر ظاہر ہو گیا اور آپ نے اس شخص سے فرمایا جو آپ پر پانی ڈال رہا تھا کہ پانی ڈالو۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر ہلایا اور انہیں آگے اور پیچھے کی طرف لے گئے۔ اور پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب وہ فرستادہ شخص واپس آیا اور اس نے آکر دونوں کو بتایا کہ عبد اللہ بن عباس کی رائے درست تھی، -صحابہ حق ہی کے جویا رہتےتھے- تو اس پر مسور رضی اللہ عنہ رجوع کرتے ہوئے اور اپنے ساتھی کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اب تم سے کبھی اختلاف نہیں کروں گا۔

Explanation

‘Abdullāh ibn ‘Abbās and Al-Miswar ibn Makhramah (may Allah be pleased with both of them) were debating whether the one in the state of Ihrām is allowed to wash his head or not. What made it debatable is that if one moves the hair on his head, it may cause some of the hair to fall. So ‘Abdullāh ibn Hunayn went to Abu Ayyūb and found him washing himself. He said to Abu Ayyūb: Ibn ‘Abbās sent me to ask you how the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) used to wash himself (while in Ihrām). Abu Ayyūb said to the one who was pouring the water for him: "Pour," after he had lowered the cloth that was screening him until his head was visible, then he moved his hair with his hands, going from back to front and from front to back. Then he said: "This is what I saw the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) doing." When ‘Abdullāh ibn Hunayn informed them (Ibn ‘Abbās and Al-Miswar) that ‘Abdullāh ibn ‘Abbās was right – as the Companions always sought to know what the correct thing to do is- Al-Miswar (may Allah be pleased with him) recanted and admitted the virtue of his companion, saying: "I will never argue with you again."

Topics موضوعات