مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4538Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4538)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ ان کے دوست اور ساتھی یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو تین باتوں کی وصیت کی:
1- ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔
2- ہر روز چاشت کی دو رکعت نماز نماز پڑھنے کی۔
3- سونے سے پہلے وتر کی نماز پڑھنے کی۔ یہ وصیت بطور خاص اس شخص کے لیے ہے، جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں جاگ نہیں سکے گا۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے الگ الگ ساتھیوں کو الگ الگ طرح کی وصیتیں اس لیے کی تھیں کہ آپ ان کے احوال سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ کس کے لیے کیا مناسب ہے۔ مثلا توانا کے لیے جہاد، عبادت گزار کے لیے عبادت اور عالم کے لیے علم مناسب ہے۔
- ابن حجر عسقلانی ہر مہینے تین دن کے روزے کی وصیت کے بارے میں کہتے ہیں : بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان روزوں سے مراد ایام بیض یعنی ہجری مہینے کے تیرہویں، چودھویں اور پندرھویں دن کے روزے ہیں۔
- ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں : اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر کی نماز سونے سے پہلے پڑھ لینا مستحب ہے۔ لیکن یہ اس کے حق میں ہے، جسے جاگ پانے کا بھروسہ نہ ہو۔
- ان تینوں اعمال کی اہمیت۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کئی ساتھیوں کو ان کی وصیت کی ہے۔
- ابن دقیق العید چاشت کی دو رکعتوں کے بارے میں کہتے ہیں : شاید آپ نے کم سے کم رکعتوں کا ذکر کیا ہے، جنھیں پڑھنے کی تاکید وارد ہوئی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چاشت کی نماز مستحب ہے اور اس کی کم سے کم رکعت دو ہے۔
- چاشت کی نماز کا وقت : چاشت کی نماز کا وقت سورج ڈوبنے کے لگ بھگ پندرہ منٹ بعد سے شروع ہوتا ہے اور ظہر کی نماز سے لگ بھگ دس منٹ پہلے تک رہتا ہے۔ یہ نماز کم سے کم دو رکعت ہے۔ جب کہ زیادہ سے زیادہ کتنی پڑھی جا سکتی ہے، اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں نے آٹھ رکعت کہا ہے اور کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
- وتر کی نماز کا وقت : وتر کی نماز کا وقت عشا کی نماز کے بعد سے فجر طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ یہ نماز کم سے کم ایک رکعت اور زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعت ہے۔
Explanation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) informs that his beloved friend and companion (may Allah's peace and blessings be upon him) advised and entrusted him with three things:
First: Fasting three days of every month.
Second: Performing the two Rak‘ahs (unit of prayer) of Duha (forenoon prayer) daily.
Third: Performing Witr before sleeping for whoever fears not waking up at the end of the night.