شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4540Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4540)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے زیادہ سے زیادہ نیکی کے کاموں کے ذریعہ لیلۃ القدر تلاش کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس بات کى زیادہ امید ہوتی ہے کہ لیلۃ القدر ہر سال رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کسى ایک میں ہو اور یہ طاق راتیں اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسويں اور انتیسویں راتیں ہیں۔
حدیث کے فوائد
- شب قدر کی فضیلت اور اسے تلاش کرنے کی ترغیب۔
- اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس رات کو پوشیدہ رکھا جائے، تاکہ اس کی طلب میں لوگ خوب عبادت کیا کریں اور انھیں بڑا اجر وثواب مل سکے۔
- شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس بات کی امید زیادہ ہے کہ آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہو۔
- شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہے۔ اسی رات میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن اتارا اور اسے برکت، قدر ومنزلت اور اس میں کیے گئے عمل صالح کے اثرات کے اعتبار سے ایک ہزار راتوں سے بہتر قرار دیا۔
- اس رات کو لیلۃ القدر (دال کے سکون کے ساتھ) یا تو اس کے فضل وشرف کی بنا پر کہا گیا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: "فلان عظيم القدر" یعنی فلاں بڑی قدر ومنزلت والا انسان ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کی اضافت کسی چیز کی اضافت اس کی صفت کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ رات بڑی قدر ومنزلت اور مقام ومرتبہ والی رات ہے، "ہم نے اسے (قرآن کو) ایک مبارک رات میں اتارا"۔ [سورہ دخان : 3]۔ یا پھر قدر لفظ تقدیر سے ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کى اضافت قدر کى طرف ظرف کی اضافت اس کے مشتملات کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ ایک ایسی رات ہے، جس میں سال بھر میں رونما ہونے والے تمام امور کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، "اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے" [سورہ دخان : 4]۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) encouraged diligence in pursuing and seeking out the Night of Qadr by increasing good deeds. It is more likely to occur during the odd nights of the last ten nights of Ramadan every year, which are: the 21st, 23rd, 25th, 27th, and 29th nights.