’’میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب آخری سات تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس لیے جسے اس (شب قدر) کی تلاش…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4545Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4545)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ صحابہ نے خواب میں دیکھا کہ شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں میں ہوا کرتی ہے۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب رمضان کی آخری سات راتوں کے بارے میں متفق ہيں۔ اس لیے جس کے اندر اس رات کو پانے کا ارادہ اور چاہت ہو، وہ زیادہ سے زیادہ عمل صالح کے ذریعہ اس رات کو ڈھونڈنے کی کوشش کرے۔ کیوں کہ آخری سات راتوں کے اندر شب قدر ہونے کی توقع زیادہ ہے۔ آخری سات راتیں رمضان مہینے کے تیس دن کے ہونے کی صورت میں چوبیسویں رات سے شروع ہوتی ہیں اور انتیس دن کے ہونے کی صورت میں تئیسویں رات سے شروع ہوتی ہيں۔
حدیث کے فوائد
- شب قدر کی فضیلت اور اسے تلاش کرنے کی ترغیب۔
- اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس رات کو پوشیدہ رکھا جائے، تاکہ اس کی طلب میں لوگ خوب عبادت کیا کریں اور انھیں بڑا اجر وثواب مل سکے۔
- شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس بات کی امید زیادہ ہے کہ رمضان کے آخرى عشرے کی آخرى سات راتوں میں سے کوئی ایک رات ہو۔
- شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہے۔ اسی رات میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن اتارا اور اسے برکت، قدر ومنزلت اور اس میں کیے گئے عمل صالح کے اثرات کے اعتبار سے ایک ہزار راتوں سے بہتر قرار دیا۔
- اس رات کو لیلۃ القدر (دال کے سکون کے ساتھ) یا تو اس کے فضل وشرف کی بنا پر کہا گیا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے : "فلان عظيم القدر" یعنی فلاں بڑی قدر و منزلت والا انسان ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کی اضافت کسی چیز کی اضافت اس کی صفت کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ بڑی قدر ومنزلت اور مقام ومرتبہ والی رات ہے، "ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے"[سورہ دخان : 3] ۔ یا پھر قدر لفظ تقدیر سے ہے، اس صورت میں لیلۃ (رات) کى اضافت قدر کی طرف ظرف کی اضافت اس کے مشتملات کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ ایک ایسی رات ہے، جس میں سال بھر میں رونما ہونے والے تمام امور کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، "اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے"[سورہ دخان : 4]۔
Explanation
Some men among the Prophet's Companions saw in their dreams that the Night of Qadr is in the last seven nights of Ramadan. Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: I see that your visions have agreed on the last seven nights of Ramadan. So, whoever seeks it and is keen on pursuing it, let him seek it and pursue it with diligence by increasing the good deeds, as it is more likely to be in the last seven, which start from the 24th night if the month of Ramadan is thirty days, or from the 23rd night if the month is twenty-nine days.