صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے”۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4556Sahih صحیح
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الخَمْرِ، وَالمَيْتَةِ وَالخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ المَيْتَةِ، فَإِنَّهَا يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ فَقَالَ: «لاَ، هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللَّهُ اليَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو، فتح مکہ کے سال، جب کہ آپ ﷺ مکہ میں تھے، فرماتے ہوئے سنا : ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے"۔ عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیوں کہ اس سے کشتیوں كو پینٹ کیا ہے اور کھالوں پر اس کا روغن چڑھایا جاتا ہے اور اس سے لوگ چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "نہیں, یہ بھی حرام ہے"۔ پھر رسول ﷺ نے اس وقت فرمایا : "اللہ یہود کو تباہ کرے۔ اللہ نے جب ان پر چربی حرام کی، تو ان لوگوں نے اس کو پگھلا کر اسے بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him), in the year of the Conquest, when he was in Makkah, say: "Indeed, Allah and His Messenger have forbidden selling alcohol, dead animals, swine, and idols." It was said: "O Messenger of Allah, what about the fat of dead animals that is used for coating boats and daubing hides, and people use it for lighting purposes?" He said: "No, it is forbidden." Then, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "May Allah destroy the Jews. Indeed, Allah had forbidden fat to them, but they melted it and then sold it and consumed its price."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4556

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فتح مکہ کے سال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سرزمین مکہ میں فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا مردار کی چربیوں کو بیچنا حلال ہے؟ کیوں کہ اسے کشتیوں پر مَلا جاتا ہے اور کھالوں پر اس کا روغن چڑھایا جاتا ہے اور اس سے لوگ چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: حلال نہيں ہے۔ مردار کی چربی کو بیچنا بھی حرام ہے۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ یہود کو تباہ اور ان پر لعنت کرے۔ اللہ نے جب ان پر چربی حرام کی، تو وہ لوگ اس کو پگھلا کر اس کا تیل بیچنے لگے اور اس کی قیمت کھانے لگے۔

حدیث کے فوائد

  • نووی کہتے ہيں : مردار، شراب اور سور، ان میں سے ہر ایک کی خرید و فروخت حرام ہے، اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
  • قاضی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چيز کا کھانا اور اس سے استفادہ جائز نہيں ہے، اسے بیچنا اور اس کی قیمت کھانا بھی جائز نہيں ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں ذکر کئے گئے چربی کی مثال سے واضح ہے۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث کا سیاق اکثر علما کی اس توضیح کو تقویت دیتا ہے کہ آپ کے قول "هو حرام" سے مراد خرید و فروخت ہے، انتفاع نہيں۔
  • کسی حرام کو حلال کرنے کے لیے اپنایا گیا ہر حیلہ باطل ہے۔
  • نووی کہتے ہیں: علما نے کہا ہے کہ مردار کو بیچنے کی حرمت کے عموم میں یہ داخل ہے کہ جب جنگ کے میدان میں کسی کافر کا قتل ہو جائے، لاش مسلمانوں کے قبضے میں ہو اور کفار اسے خریدنا یا اس کا کوئی عوض دینا چاہیں، تو اسے بیچنا یا اس کا عوض لینا حرام ہوگا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ نوفل بن عبداللہ مخزومی کو جنگ خندق کے موقعے پر مسلمانوں نے قتل کر دیا اور کافروں نے اس کی لاش حاصل کرنے کے لیے دس ہزار درہم دینے کی پیش کش کی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے رقم نہيں لی اور اس کے بغیر ہی لاش ان کے حوالے کر دی۔

Explanation

Jābir ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say in the year of the Conquest, while he was in Makkah: Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, dead animals, pork, and idols. It was said: O Messenger of Allah, is it permissible to sell the fat of dead animals? It is used to coat ships and daub hides, and people light their lamps with it. He said: No, selling it is forbidden. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: May Allah destroy the Jews and curse them. When Allah forbade them the fat of animals, they melted it and then sold its fat and consumed its price.

Topics موضوعات