صحیح مسلم
Sahih Muslim

اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4563Sahih صحیح
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا» قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ، يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: «مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا، قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ، أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھا۔ اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا اور اپنی ہتھیلیاں اپنى رانوں پر رکھی۔ پھر بولا : اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک جانے کی استطاعت ہو، تو اس کا حج کرو۔" یہ سن کر وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور پھر خود آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر بولا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور ہر اچھی و بری تقدیر پر ایمان لاؤ"۔ وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر بولا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے"۔ وہ کہنے لگا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس سے سوال کیا جا رہا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا"۔ اس نے کہا : اچھا تو مجھے اس کی نشانیاں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "(نشانیاں یہ ہیں کہ) لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی۔ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے لوگ محلات تعمیر کرنے میں ایک دوسرے پر فخر کیا کریں گے"۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : "اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟" میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں"۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "وہ جبریل (علیہ السلام) تھے۔ وہ تمھیں تمھارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) reported: One day, we were sitting with the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) when there appeared before us a man dressed in extremely white clothes and had very black hair. No traces of travel were visible on him, and none of us knew him. He came in and sat down opposite the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), rested his knees against his, and placed the palms of his hands on his (the Prophet's) thighs. He said: "O Muhammad, tell me about Islam." The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Islam is to testify that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, to establish prayer, to pay Zakah, to fast Ramadan, and to perform Hajj to the House if you are able to find a way thereto." He said: "You have spoken the truth." We wondered how he asked him and affirmed his truthfulness. Then, he said: "Tell me about Imān (faith)." He said: "It is to believe in Allah, His angels, His books, His messengers, and the Last Day, and believe in the divine decree, the pleasant and unpleasant aspects thereof." Then, he said: "You have spoken the truth." Then, he said: "Tell me about ihsān." He said: "It is to worship Allah as if you see Him, for if you do not see Him, He sees you." He said: "Tell me about the Hour." He said: "The one questioned about it knows no more than the questioner." He said: "Then, tell me about its signs." He said: "The slave girl will give birth to her mistress, and you will see the barefoot, naked, and destitute herdsmen competing in constructing lofty buildings." Then, he departed. I stayed for a while, and then he said to me: "O 'Umar, do you know who the questioner was?" I said: "Allah and His Messenger know best." He said: "He was Jibrīl (Gabriel). He came to teach you your religion."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4563

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ جبریل علیہ السلام صحابۂ کرام کے پاس ایک اجنبی شخص کی شکل اختیار کر کے آئے۔ ان کے کچھ صفات اس طرح تھے کہ ان کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ کالے تھے۔ ان کے جسم پر سفر کا کوئی اثر، جیسے تھکاوٹ، دھول مٹی، بالوں کا بکھرا ہوا ہونا اور کپڑوں کا میلا کچیلا ہونا وغیرہ نہیں دکھ رہا تھا۔ وہاں موجود کوئی شخص ان کو پہچان بھی نہيں پا رہا تھا۔ اس وقت صحابہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے سامنے ایک طالب علم کی طرح بیٹھ گئے اور اس کے بعد آپ سے اسلام کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں دونوں گواہیوں کا اقرار، پانچ وقتوں کی نمازیں قائم کرنا، زکوۃ اس کے حق داروں کو دینا، رمضان مہینے کے روزے رکھنا اور استطاعت رکھنے والے کے لیے کعبہ کا حج کرنا شامل تھا۔

جواب سننے کے بعد سوال کرنے والے نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے۔ صحابہ کو اس بات کا تعجب ہوا ان کا سوال کرنا یہ دکھاتا ہے کہ وہ جانتے نہیں ہيں، لیکن وہ آپ کی بات کی تصدیق بھی کر رہے ہیں۔

پھر انھوں نے آپ سے ایمان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں ایمان کے چھ ارکان شامل ہيں، جو کچھ اس طرح ہيں؛ اللہ کے وجود اور اس کے صفات پر ایمان رکھنا، اسے اپنے افعال، جیسے تخلیق وغیرہ میں اکیلا ماننا اور بس اسی کو عبادت کا حق دار جاننا، اس بات پر ایمان رکھنا کہ فرشتے، جن کو اللہ نے نور سے پیدا کیا ہے، اس کے معزز بندے ہیں، جو اس کی نافرمانی نہيں کرتے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اللہ کی جانب سے رسولوں پر اترنے والی کتابوں، جیسے قرآن، تورات اور انجیل وغیرہ پر ایمان رکھنا، انسانوں کو اللہ کا دین پہنچانے والے رسولوں، جیسے نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنا، آخرت کے دن پر ایمان رکھنا، جس میں موت کے بعد کی برزخی زندگی کے ساتھ ساتھ اس بات پر ایمان بھی شامل ہے کہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا اور حساب وکتاب کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد اس کا ٹھکانہ یا تو جنت ہوگا یا پھر جہنم اور اخیر میں اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ نے اپنے سابقہ علم اور اپنی حکمت کے مطابق ساری چیزوں کی مقدار مقرر کرکے ان کو لکھ رکھا ہے اور بعد میں وہ ساری چیزیں اللہ کے ارادے سے اور اس کے اندازے کے مطابق ہی سامنے آتی ہيں اور وہی ان کی تخلیق بھی کرتا ہے۔ پھر انھوں نے آپ سے احسان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ احسان یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے، گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ اس مقام تک نہ پہنچ سکے، تو اللہ کی عبادت یہ سوچ کر کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یہاں پہلا مقام مشاہدے کا ہے، جو کہ سب سے اونچا ہے اور دوسرا مقام مراقبے کا ہے۔

پھر انھوں نے آپ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کب آئے گی، یہ بات ان باتوں میں سے ہے، جن کو اللہ نے کسی کو نہيں بتایا ہے۔ لہذا اس کا علم کسی کے پاس نہيں ہے۔ نہ جس سے پوچھا گیا ہے، اس کے پاس اور نہ پوچھنے والے کے پاس۔

بعد ازاں انھوں نے آپ سے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ باندیوں اور اس کے بطن سے جنم لینے والے بچوں کی بہتات ہوگی یا پھر یہ کہ بچے اپنی ماؤں کی بہت زیادہ نافرمانی کرنے لگیں گے اور ان کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کریں گے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ آخری زمانے میں بکریوں کے چرواہوں اور فقیروں کے سامنے دنیا کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ خوب صورت اور مضبوط محلوں کے معاملے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔

اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پوچھنے والے جبریل تھے، جو صحابہ کو اسلام سکھانے کے لیے آئے تھے۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اعلی اخلاق کہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھل مل کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔
  • سوال کرنے والے کے ساتھ نرمی بھرا برتاؤ کرنا اور اسے اپنے پاس بٹھانا چاہیے، تاکہ وہ بغیر کسی خوف اور تردد کے جو کچھ پوچھنا چاہے، پوچھ سکے۔
  • استاد کے ساتھ ادب و احترام کا معاملہ کرنا چاہیے۔ ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ادب کے ساتھ بیٹھ گئے، تاکہ آپ سے علم حاصل کر سکیں۔
  • اسلام کے پانچ ارکان اور ایمان کی چھ بنیادیں ہيں۔
  • جب اسلام اور ایمان دونوں الفاظ ایک ساتھ آئیں، تو اسلام کی تفسیر ظاہری چیزوں سے کی جائے گی اور ایمان کی تفسیر باطنی چیزوں سے۔
  • دین کے مختلف درجات ہيں۔ پہلا درجہ اسلام ہے، دوسرا ایمان ہے اور تیسرا احسان، جو کہ دین کا سب سے اونچا درجہ ہے۔
  • اصل یہ ہے کہ پوچھنے والے کے پاس جانکاری نہ ہو اور عدم واقفیت کی وجہ سے ہی انسان کسی سے کچھ پوچھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کو اس بات پر تعجب ہوا کہ وہ شخص خود پوچھ بھی رہا تھا اور تصدیق بھی کر رہا تھا۔
  • آغاز زیادہ اہم سے کر کے کم اہم کی طرف جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تفسیر کرتے وقت آغاز دونوں گواہیوں سے کیا گيا اور ایمان کی تفسیر کرتے وقت آغاز اللہ پر ایمان سے کیا گیا۔
  • دین کا علم رکھنے والوں سے ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے، جن سے پوچھنے والا واقف ہو، تاکہ دوسرے لوگ بھی ان چیزوں کو جان جائیں۔
  • قیامت کب آئے گی، اس بات کا علم اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔

Explanation

'Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) informs that Jibrīl (peace be upon him) appeared before the Companions (may Allah be pleased with them) in the form of an unknown man with white clothes and very dark hair and the signs of travel – such as fatigue, dust, unkempt hair, and dirty clothing – were not visible on him. None of those present knew him. This happened while they were sitting with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). He sat down before the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) as a learner and asked him about Islam. He answered him, pointing out the pillars of Islam: acknowledgment of the two testimonies of faith, observing the five prayers, paying the Zakah to its due recipients, fasting the month of Ramadan, and performing the obligation of Hajj for those who are able to do so.

The inquirer said: You have spoken the truth. The Companions wondered that he posed the question, which indicated that he apparently did not know the answer, and then he affirmed that the answer was right.

Then, he asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about faith, and he answered him listing the six pillars that contain belief in the existence of Allah Almighty and His attributes, ascribing His actions, such as creation, to Him alone, and devoting worship only to Him; belief that the angels, whom Allah created from light, are honorable servants who do not disobey Allah Almighty and they execute His commands; belief in the scriptures revealed by Allah Almighty to the messengers, like the Qur’an, the Torah, and the Gospel, and in the messengers who conveyed Allah's religion, such as Noah, Abraham, Moses, Jesus, and the last of them Muhammad (peace be upon all of them); belief in the Last Day, which includes the barzakh life (life after death in the grave) and that every human being will be resurrected after death and undergo the reckoning and will ultimately end up in Paradise or Hellfire; and belief that Allah had predestined all things according to His prior knowledge, wisdom, writing, and will, and that everything happens according to Allah's predestination and creation. Then, he asked him about ihsān, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told him that ihsān is to worship Allah as if you can see Him, and if he cannot reach that level, he should then worship Allah Almighty as if Allah is watching him. The first is the level of watching, which is higher, and the second is the level of watchfulness.

Then, he asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about the Hour, and he clarified that knowledge of the Hour is one of the things Allah kept to Himself alone; so, none of the creation knows it, neither the one inquired about it nor the inquirer.

Then, he asked him about the signs of the Hour. He pointed out that its signs include the increasing number of slave girls or the prevalence of children's ingratitude toward their mothers as they treat them like slaves and that shepherds and poor people will lead a life of opulence in the latter times, taking pride in the construction and decoration of big houses.

Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that the inquirer was Jibrīl, who came to teach the Companions this upright religion.

Topics موضوعات