جب ہم مسافر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین راتیں نہ…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4565Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 4565)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
زِرّ بن حُبَیش، صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھنے آئے۔ صفوان نے پوچھا: اے زِر! کون سا جذبہ تمہیں یہاں لے کر آیا ہے؟ زِر نے کہا: علم کی تلاش وجستجو نے۔ انہوں نے کہا: فرشتے طالبِ علم کے لیے اپنے پر بچھادیتے ہیں، طالب علم کے اس عمل سے خوش ہو کر اور اس کی تعظیم میں۔ زِر نے کہا: میرے دل میں پیشاب اور پاخانے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کی بابت تردد پیدا ہو گیا ہے، آپ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں، لہذا میں آپ سے یہ پوچھنےکے لیے آیا ہوں کہ کیا آپ نے نبی ﷺ کو اس سلسلے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ صفوان نے کہا: ہاں، وہ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم مسافر ہوں تو حدث اصغر یعنی پاخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتاریں، البتہ جنابت کی صورت میں انہیں اتارنا واجب ہے۔ تو میں نے کہا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ اسی اثنا میں کہ ہم آپ ﷺ کے پاس تھے، ایک دیہاتی نے بلند آواز سے پکارا: اے محمد! تو آپ ﷺ نے بھی اسی کی آواز جیسی بلند آواز میں جواب دیا: ادھر آؤ۔ ہم نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس! اپنی آواز پست کرو، کیونکہ تم نبی ﷺ کی بارگاہ میں ہو اور آپ ﷺ کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس نے اپنی درشت مزاجی کی وجہ سے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی آواز پست نہیں کروں گا۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! آدمی نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر پاتا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی۔‘‘ زر کہتے ہیں: پھر صفوان ہم سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے شام کی جانب توبہ کے ایک دروازے کا ذکر کیا، جسے اللہ نے اسی دن بنایا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ایک سوار اس کی چوڑائی میں چالیس یا ستر سال تک چلتا رہے گا، اور وہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے۔
حدیث کے فوائد
- علم حاصل کرنے کی فضیلت، طالب علم کی عظمت ومنزلت، اور فرشتوں کا اس کی عزت وتکریم کرنا۔
- تابعین کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علم حاصل کرنے کا شوق اور حرص۔
- چمڑے کے موزوں پر مسح کا جواز، اور اس کی مدت: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات۔
- موزوں پر مسح صرف حدث اصغر میں ہوتا ہے۔
- سائل کا عالم سے اس کی دلیل کے بارے میں مطالبہ کرنا جائز ہے کہ آیا وہ نص ہے یا اس کا اپنا استدلال واجتہاد، اور عالم کو چاہیے کہ وہ اس سے حرج محسوس نہ کرے۔
- علماء اور صالحین کے ساتھ ادب کا لحاظ رکھنا، اور علمی مجالس میں آواز کو پست رکھنا۔
- جاہل کو حسنِ ادب اور سلوک کے قواعد سکھانا۔
- حلم وبردباری، حسنِ اخلاق اور لوگوں سے ان کے علم وعقل کے مطابق مخاطب ہونے میں نبی ﷺ کی اقتدا کرنے کی ترغیب۔
- مبارکپوری فرماتے ہیں: آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی آواز صرف اس پر شفقت فرماتے ہوئے بلند کی تاکہ اللہ تعالی کے فرمان {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} کی وجہ سے اس کا عمل ضائع نہ ہو جائے؛ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی جہالت کی بنا پر اس کا عذر قبول فرمایا، اور اس پر کمالِ شفقت ورافت کی وجہ سے نبی ﷺ نے اپنی آواز اتنی بلند فرمائی کہ وہ اس کی آواز کے مثل یا اس سے بھی بلند ہوگئی۔
- صالحین کی ہم نشینی اختیار کرنے، ان کی قربت حاصل کرنے اور ان سے محبت کرنے کی حرص رکھنا۔
- نووی کہتے ہيں: ان کے ساتھ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا مرتبہ اور بدلہ ہر لحاظ سے ان جیسا ہو۔
- امید اور رجا کا دروازہ کھولنا، نجات کی بشارت دینا اور موعظت میں نرمی برتنا۔
- اللہ عزیز وبرتر کی بے پایاں رحمت، اور توبہ کا دروازہ کھلا رکھنا۔
- توبہ میں جلدی کرنے، نفس کا محاسبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب۔
Explanation
Zirr ibn Hubaysh came to Safwān ibn ‘Assāl (may Allah be pleased with him), asking him about wiping over the leather socks. Safwān said: What has brought you here, O Zirr? He replied: The pursuit of knowledge. Safwān said: Indeed, the angels lower their wings for the seeker of knowledge, in approval of and honor for what he does. Zirr then said: I have some doubts in my heart about wiping over the socks after defecation and urination, and you are one of the Companions of the Prophet (ﷺ), so I have come to ask you whether you heard the Prophet mention anything about that. Safwān said: Yes. He used to command us when we were traveling, not to remove our leather socks for three days and nights due to minor impurity—such as defecation, urination, or sleep—except in the case of Janābah, for then they must be removed. I (Zirr) said: Did you hear him mention anything about love? He said: Yes. While we were with the Prophet (ﷺ) on a journey, a Bedouin called out in a loud voice: O Muhammad! The Prophet (ﷺ) answered him in a similarly loud voice, close to his tone, saying: Come here. We said to the Bedouin: Woe to you! Lower your voice, for you are in the presence of the Prophet (ﷺ), and you have been forbidden to raise your voice before him. Because of his roughness, the Bedouin replied: By Allah, I will not lower it. Then he said: O Messenger of Allah, a man loves righteous people but has not done deeds like theirs—what about him? The Prophet (ﷺ) said: A person will be with those he loves on the Day of Judgment. Zirr said: Safwān continued telling us until he mentioned a gate of repentance in the direction of the Levant (Shām), which Allah created on the day He created the heavens and the earth—its width is such that a rider could travel across it for forty or seventy years, and it will not be closed until the sun rises from the west.