”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4801Sahih Muslim (HadeethEnc 4801)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک مسلمان کو اسی نوعیت کا اجر وثواب ملتا ہے، جو وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتا ہے۔ جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی کوئى بھى پریشانی اور سختى دور کى، تو اللہ تعالیٰ بدلے کے طور پر اسے قیامت کے دن کى پریشانیوں اور مشکلات میں سے کسى ایک پریشانی اور سختى سے نجات عطا فرمائے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اسے سہولت فراہم کی اور اس کی تنگ دستی کو دور کیا، اللہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی کی راہیں نکالے گا۔ جو شخص کسی مسلمان سے ہونے والی کسی لغزش سے واقف ہو گیا، جس کا شکار اسے نہيں ہونا چاہیے تھا، پھر اس پر پردہ ڈال دیا، تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی لغزشوں پر پردہ ڈالے گا۔ اللہ بندے کی مدد اس وقت تک کرتا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کے دینی و دنیوی کاموں میں اس کی مدد کرنے کی راہ پر گام زن رہتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مدد دعا کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے، بدن کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے اور مال وغیرہ کے ذریعے بھی۔ جو شخص اللہ کی رضا جوئی کی خاطر علم شرعی کی تلاش میں چل پڑا، اس کے بدلے میں اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ جب کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں جمع ہوتے ہيں، اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہيں، تو ان پر وقار و اطمینان کی بارش ہوتی ہے، ان کو اللہ کی رحمت اپنے سایے میں لے لیتی ہے، فرشتے انھیں گھیر لیتے ہيں اور اللہ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے ان کی تعریف کرتا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کا ذکر اللہ اپنے مقرب فرشتوں میں کر دے۔ جس کا عمل ناقص ہو، اس کا نسب اسے سرگرم عمل رہنے والے لوگوں کے مرتبے تک پہنچا نہیں سکتا۔ لہذا انسان کو اپنے اونچے حسب نسب اور آبا و اجداد کے فضل و شرف پر بھروسہ کر کے عمل کے میدان میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
حدیث کے فوائد
- ابن دقیق العید کہتے ہیں : یہ حدیث مختلف طرح کے علوم، قواعد اور آداب پر مشتمل ایک عظیم ترین حدیث ہے۔ اس میں مسلمانوں کی ضرورتیں پوری کرنے اور انھیں اپنے علم، مال، تعاون، مشورہ یا خیرخواہی وغیرہ سے مستفید کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
- تنگ دست انسان کے ساتھ آسانی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- مسلم بندہ کی مدد کرنے پر ابھارا گیا ہے، کیوں کہ بندہ جس قدر اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے، اسی قدر اللہ تعالی بھی اس کی مدد کرتا ہے۔
- مسلمان کی پردہ پوشی کے اندر اس کی کمیوں کی کھوج بین نہ کرنا بھی شامل ہے۔ کسی سلف نے کہا : میں نے کچھ لوگوں کو پایا جن کے عیوب نہيں تھے، لیکن جب انھوں نے لوگوں کے عیوب کا چرچا کرنا شروع کر دیا، تو لوگوں نے بھی ان کے عیوب کا ذکر کرنا شروع کر دیا۔ اس کے برخلاف میں نے کچھ لوگوں کو پایا، جن کے عیوب تھے، لیکن انھوں نے لوگوں کے عیوب کا ذکر نہيں کیا، تو ان کے عیوب بھلا دیے گئے۔
- پردہ پوشی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برائی کو ہونے دیا جائے اور اس کی نکیر کرنا چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ برائی کی نکیر بھی کی جائے گی اور پردہ پوشی سے بھی کام لیا جائے گا۔ دراصل پردہ پوشی ایسے شخص کی کرنی ہے، جو برائی اور سرکشی میں معروف نہ ہو۔ جو برائی اور سرکشی میں معروف ہو چکا ہو، اس کا معاملہ حکومتی اہل کاروں تک پہنچا دیا جائے گا۔ بہ شرط یہ کہ اس سے کوئی دوسری برائی جنم لینے کا اندیشہ نہ ہو۔ کیوں کہ اس طرح کے شخص کی پردہ پوشی اس کی حوصلہ افزائی کرے گی، اسے بندوں کو تکلیف دینے پر آمادہ کرے گی اور دوسرے برائی کرنے والوں کو جری بنائے گی۔
- طلب علم، تلاوت قرآن اور قرآن کا دور کرنے کی ترغیب۔
- نووی کہتے ہیں : اس حدیث میں قرآن کریم کی تلاوت کے لیے مسجد میں یکجا ہونے کی دلیل موجود ہے۔ اس فضیلت کے حصول میں مدرسہ اور رباط وغیرہ میں جمع ہونے کو مسجد میں جمع ہونے کے زمرے میں رکھا جائے گا۔
- جزا و ثواب اعمال کی بنیاد پر ملتا ہے۔ حسب نسب کی بنیاد پر نہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that the reward a Muslim receives from Allah is of the same nature as the actions he performs for other Muslims. Whoever relieves, alleviates, removes, or eliminates a hardship and a difficulty from a believer in this world, Allah will reward him by relieving him from one of the hardships of the Day of Judgment. And whoever facilitates and makes things easy for someone in difficulty and removes his difficulty, Allah will make it easy for him in this world and the Hereafter. And whoever conceals the faults of a Muslim, such as knowing what should not be exposed of slips and errors, Allah will conceal his faults in this world and the Hereafter. Allah supports His slave as long as the slave supports his brother in his religious and worldly interests. Support could be through supplication, physical action, money, etc. Whoever walks in pursuit of religious knowledge, doing it for the sake of Allah Almighty, Allah will facilitate for him a path to Paradise. No group of people gather in one of the houses of Allah, reciting the Book of Allah and studying it among themselves, except that tranquility and solemnity descend upon them, the mercy of Allah envelops and encompasses them, the angels surround them, and Allah praises them in the presence of those near Him. It is enough of an honor that Allah mentions the slave in the highest assembly. The one whose good deeds are insufficient will not be elevated to the rank of those with righteous deeds. Hence, he should not rely upon his noble lineage and the merit of his forefathers while neglecting the performance of good deeds.