’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4809Sahih Muslim (HadeethEnc 4809)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور اپنے بارے میں بتا رہے ہیں کہ آپ دن میں سو بار سے زیادہ اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرتے ہيں۔ جب کہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف تھے۔ یہ دراصل اللہ کے حضور بندگی اور عاجزی کے اظہار کا کمال تھا۔
حدیث کے فوائد
- ہر شخص کو، چاہے اس کا ایمان جتنا بھی مضبوط ہو، اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنے اور توبہ کے ذریعے اپنے ایمان کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص سے اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو"۔
- توبہ کا یہ حکم عام ہے۔ توبہ چاہے حرام کاموں اور گناہوں کے ارتکاب سے ہو یا واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی سے۔
- توبہ کی قبولیت کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔ چنانچہ غیر اللہ کے لیے کوئی گناہ ترک کرنے والا تائب نہیں کہلائے گا۔
- نووی کہتے ہيں: توبہ کی تین شرطیں ہیں : 1- گناہ سے باز آنا۔ 2۔ گناہ کے ارتکاب پر نادم وشرمندہ ہونا۔ 3- اس بات کا عزم کرنا کہ دوبارہ وہ گناہ نہيں کرے گا۔ مذکورہ تین شرطیں اس وقت ہیں، جب گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو۔ اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، تو توبہ کے صحیح ہونے کے لیے اس حق کو صاحب حق تک لوٹانا یا پھر صاحب حق سے معافی وتلافی کرانا ضروری ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کرنے سے یہ نہیں لازم آتا کہ آپ گناہوں کے ارتکاب پر ہی استغفار کرتے تھے، بلکہ کمال عبودیت پر فائز ہونے، اللہ پاک کے ذکر میں مصرورف رہنے، اللہ کے عظیم حق کا احساس رکھنے اور اس کوتاہی کا ادراک رکھنے کی وجہ سے کیا کرتے تھے جو بندے سے صادر ہوجایا کرتی ہے، گرچہ وہ اللہ کی نعمتوں کا جس قدر بھی شکر ادا کر لے۔ اس کا مقصد اپنے بعد اپنی امت کے لیے اس عمل کو مشروع قرار دینا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی حکمتیں ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) commands people to repent to Allah and seek His forgiveness frequently. He informs about himself that he repents to Allah Almighty and seeks His forgiveness every day more than one hundred times, even though his past and future sins have been forgiven. This denotes perfect humiliation and servitude to Allah Almighty.