اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: رواه الترمذي
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4811Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 4811)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ ایک دن وہ اللہ کے نبی صلی اللہ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے کہا : میں تمھیں کچھ باتیں سکھاؤں گا، جن سے اللہ تمھیں فائدہ پہنچائے گا :
اللہ کے احکام کی حفاظت کرکے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہ کر اس طرح اللہ کی حفاظت کرو کہ وہ تم کو نیکی اور اللہ سے قریب کرنے والے کاموں میں مشغول پائے اور نافرمانیوں اور گناہوں میں مشغول نہ پائے۔ اگر تم ایسا کروگے، تو بدلے میں اللہ دنیا و آخرت کی ناخوش گوار چیزوں سے تمھاری حفاظت کرے گا اور تم جہاں بھی جاؤگے، ہر کام میں تمھاری مدد کرے گا۔
جب تم کچھ مانگنا چاہو، تو صرف اللہ سے مانگو۔ کیوں کہ وہی مانگنے والوں کی مرادیں پوری کرتا ہے۔
جب مدد طلب کرنی ہو، تو بس اللہ سے طلب کرو۔
تمھارے دل میں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر روئے زمین پر موجود سارے لوگ تمھارا بھلا کرنا چاہيں، تو اتنا ہی کر سکتے ہيں، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے اور اگر دھرتی پر بسنے والے سارے لوگ تمھارا برا کرنا چاہيں، تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتے، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے۔
ان ساری باتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی حکمت اور علم کے تقاضے کے مطابق لکھ رکھا ہے اور اللہ کے لکھے ہوئے میں کوئی تبدیلی ممکن نہيں ہے۔
حدیث کے فوائد
- چھوٹے بچوں کو توحید و آداب اور اس طرح کے دین کی دیگر باتیں سکھانے کی اہمیت۔
- انسان کو بدلہ اسی نوعیت کا دیا جاتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل ہوتا ہے۔
- اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اس پر توکل کرنے کا حکم، کیوں کہ وہ سب سے بہترین کار ساز ہے۔
- قضا و قدر پر ایمان اور اس سے رضامندی اور یہ کہ اللہ نے ساری چیزیں پہلے ہی مقدر کر رکھی ہے۔
- جو اللہ کے حکم کو ضائع کرے گا، اللہ اسے ضائع کرے گا اور اس کی حفاظت نہیں کرے گا۔
Explanation
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) informs that one day, as a boy, he was riding behind the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), and he said to him: I will teach you things by which Allah will benefit you:
Be mindful of Allah by observing His commands and prohibitions so He will find you engaged in the acts of worship and piety and not find you committing sins and misdeeds. If you do so, your recompense will be that Allah will protect you from unpleasant things in this world and the Hereafter and support you in your endeavors wherever you go.
If you want to ask for something, do not ask anyone but Allah, for He alone responds to those who ask.
And if you need help, do not seek help except from Allah.
And you should be certain that no benefit will come to you, even if all the earth's inhabitants were to gather together to bring it to you, except if Allah had predestined it for you. No harm will happen to you, even if all the inhabitants of the earth were to gather together to cause it to you, except if Allah had predestined it for you.
And that Allah Almighty had written and predestined this matter according to His wisdom and knowledge, and whatever Allah had written cannot be changed.