اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم اسے قتل کر دو گے، تو وہ اس جگہ پر آ جائے گا، جس پر اس کو قتل کرنے سے پہلے تم تھے اور…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4815Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4815)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ جب میدان جنگ میں ان کا سامنا کسی کافر سے ہو جائے، دونوں اپنی اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے سے بھڑ جائيں، کافر ان کے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے، پھر بھاگ کر ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہنے لگے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے، تو کیا میرے لیے اس کا قتل حلال ہوگا، جب کہ اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا ہے؟
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تم اسے قتل مت کرو۔
جواب سن کر انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا، اس کے باوجود میں اس کا قتل نہ کروں؟
آپ نے فرمایا : تم اس کا قتل مت کرو۔ کیوں کہ اب اس کا خون کرنا حرام ہو چکا ہے۔ اگر مسلمان ہو جانے کے بعد بھی تم اس کا قتل کر دوگے، تو وہ مسلمان ہو جانے کی وجہ سے معصوم الدم ٹھہرا اور تم اس کا قتل کرنے کی وجہ سے بطور قصاص مباح الدم ہو گئے۔
حدیث کے فوائد
- جس شخص سے اسلام میں داخل ہونے پر دلالت کرنے والا کوئی قول یا فعل صادر ہو، اس کا قتل حرام ہے۔
- جب کوئی کافر دوران جنگ مسلمان ہو جائے، تو اس کا خون محفوظ ہو جاتا ہے اور اس سے دست کش رہنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہاں، اگر صاف دکھائی دے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے تو بات الگ ہے۔
- مسلمان پر واجب ہے کہ اس کی خواہش شریعت کے تابع ہو، نہ کہ عصبیت اور انتقام کے۔
- ابن حجر عسقلانی کہتے ہيں : اس بات کو ترجیح دیتے ہوئے کہ اس حدیث میں جس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا ہے، وہ واقع نہيں ہوا تھا، اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ کسی مسئلے کے پیش آنے سے پہلے اس کا شرعی حکم دریافت کیا جا سکتا ہے۔ بعض سلف کا اسے ناپسند کرنا ایسے مسائل کے بارے میں پوچھنے پر محمول ہے، جو بہت کم واقع ہوتے ہوں۔ جن مسائل کا عام طور پر سامنے آنا ممکن ہو، ان کا حکم جاننے کے لیے ان کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔
Explanation
Al-Miqdād ibn al-Aswad (may Allah be pleased with him) asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about the situation if he meets a man from the disbelievers during a battle and they fight with swords and the disbeliever strikes one of his hands with the sword and cuts it off, then he runs away from him and seeks protection in a tree and says: La ilāha illallāh (there is no god but Allah), is it lawful for me to kill him after cutting off my hand?
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to him: Do not kill him.
He said: O Messenger of Allah, but he cut off one of my hands; how could I not kill him despite this?!
He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Do not kill him because his life has become inviolable. If you kill him after declaring his Islam, his Islam has made his life inviolable just like you, and you will have the same status as his, as it will be permissible to kill you by way of legal retribution for killing him.