ایک بندے نے گناہ کیا اور پھر بول اٹھا : اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4817Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4817)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ بندہ جب کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے، جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اسے بخش دیا۔ پھر جب بندہ دوبارہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور اس کا یقین ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ معاف کرتا اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اسے بخش دیا۔ جب بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ معاف کرتا اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ اب وہ جو چاہے، کرے، جب تک حالت یہ ہو کہ ہر بار گناہ کرنے کے بعد وہ فورا گناہ کرنا چھوڑ دے، شرمندہ ہو اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کا ارادہ کر لے، لیکن نفس کے بہکاوے میں آکر پھر گناہ کر بیٹھے۔ جب تک یہ حالت بنی رہے، یعنی گناہ کرے اور توبہ کر لے، تو میں اسے معاف کرتا رہوں گا۔ کیوں کہ توبہ پہلے کیے ہوئے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے۔
حدیث کے فوائد
- بندوں پر اللہ کی وسیع رحمت کہ انسان جو بھی غلطی کرے اور جو بھی کام کرے، جب اللہ کی جانب لوٹتا ہے اور اس کے سامنے توبہ کرتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
- اللہ پر ایمان رکھنے والا شخص اس کی بخشش کی امید رکھتا ہے اور اس کی سزا سے ڈرتا ہے، اس لیے وہ فورا توبہ کرتا ہے اور گناہ میں لت پت نہیں رہتا۔
- صحیح توبہ کی شرطیں : جو گناہ کر رہا تھا اسے چھوڑ دینا، اس پر شرمندہ ہونا اور دوبارہ اسے نہ کرنے کا پکا ارادہ کر لینا۔ اگر توبہ کا تعلق بندے کے کسی حق، مثلا مال، عزت و آبرو اور جان سے ہو، تو ایک چوتھی شرط بڑھ جاتی ہے۔ وہ شرط ہے، حق والے کو اس کا حق دے دینا یا اس سے معافی تلافی کر لینا۔
- اللہ کا علم رکھنے کی اہمیت، جو بندے کو دینی مسائل سے آگاہی عطا کرتا ہے اور جس کے نتیجے میں بندہ ہر بار غلطی کرنے کے بعد توبہ کر لیتا ہے۔ وہ نہ تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے اور نہ گناہ میں آگے بڑھتا جاتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) narrates from his Lord that if a servant commits a sin and then says, "O Allah, forgive my sin", Allah Almighty says: My servant committed a sin and then realized that he has a Lord Who forgives sins, covers him and pardons him, or punishes for sins. I have forgiven him. Then, the servant again commits a sin and says, "O Allah, forgive my sin", and Allah says: My servant committed a sin and then realized that he has a Lord Who forgives sins, covers him and pardons him, or punishes for sins. I have forgiven My servant. Then, again, the servant commits a sin and says, "O Allah, forgive my sin", and Allah says: My servant committed a sin and then realises that he has a Lord Who forgives sins, covers him and pardons him, or punishes for sins. I have forgiven My servant. Let him do whatever he wishes, as long as he gives it up every time he sins, feels regretful, and determines not to do it again; yet, his self overcomes him, and he falls into the sin again and again. So, as long as he acts like this, sinning and repenting, I will forgive him. Indeed, repentance abolishes what is before it.