اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی، بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4849Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4849)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو موسی رضی اللہ عنہ ایک بار بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔ بیماری اتنی سخت تھی کہ نوبت بے ہوشی تک پہنچ گئی۔ اس وقت ان کا سر ان کے گھر کی کسی عورت کی گود میں تھا، جو ان کی بیماری دیکھ کر چیخ چیخ کر رونے اور نوحہ کرنے لگی۔ لیکن بے ہوشی کے سبب وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ لہذا ہوش میں آئے تو فرمایا : میں ان تمام لوگوں سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے براءت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے: صالقہ : مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی عورت۔ حالقہ : مصیبت کے وقت بال منڈوانے والی عورت۔ شاقہ: مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والی عورت۔ کیوں کہ یہ دور جاہلیت کے امور ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ مصیبتوں کے وقت صبر سے کام لیا جائے اور اللہ سے اجر وثواب کی امید رکھی جائے۔
حدیث کے فوائد
- مصیبت کے وقت کپڑا پھاڑنے، بال منڈوانے اور بلند آواز سے رونے کی ممانعت۔ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔
- اگر نوحہ کی شکل نہ ہو اور آواز اونچی نہ کی جائے، تو غم کرنا اور رونا حرام نہيں ہے کیوں کہ یہ اللہ کے فیصلے پر صبر کرنے کے منافی نہیں ہے۔ یہ دراصل رحمت ومہربانی کا اظہار ہے۔
- اللہ کے تکلیف دہ فیصلوں پر قول و فعل کے ذریعے ناراضگی کا اظہار کرنا حرام ہے۔
- مصیبت کے وقت صبر کرنا واجب ہے۔
Explanation
Abu Burdah (may Allah be pleased with him) narrated that his father, Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him), got severely sick and lost consciousness. His head was in the lap of a woman from his family, so she screamed and wailed, but he could not respond to her because of being unconscious. When he regained his consciousness, he said that: He dissociates himself from whoever the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) dissociated himself from, and he (may Allah's peace and blessings be upon him) dissociated himself from the: Sāliqah: a woman who raises her voice in wailing upon calamity. Hāliqah: a woman who shaves her hair upon calamity. Shāqqah: a woman who tears her garment upon calamity. This is because they are from the practices of the pre-Islamic era of ignorance. Instead, one is commanded to be patient in times of calamity and to seek reward from Allah for it.