سنن ابو داؤد · سنن ابن ماجہ
Sunan Abi Dawud · Sunan Ibn Majah

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تواضع و انکسار کرنے والا بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4946Sahih صحیح
عن عبدِ اللهِ بنِ بُسْرٍ رضي الله عنه قال: كان للنبيِّ صلى الله عليه وسلم قَصْعَةٌ يقالُ لها: الغَرَّاءُ يحملها أَرْبَعَةُ رِجَالٍ؛ فلما أَضْحَوْا وسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بتلك القَصْعَةِ -يعني وَقَدْ ثُرِدَ فيها- فالتَفُّوا عليها، فلَمَّا كَثُرُوا جَثَا رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فقال أعرابيٌّ: ما هذه الجِلْسَةُ؟ فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «إِنَّ اللهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، ولم يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا»، ثم قال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا، ودَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا».
عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ کے ہاں ایک بڑا پیالہ تھا جس کو چار آدمی اٹھاتے تھے۔ اس کو” غراء“ کہا جاتا تھا۔ جب چاشت کا وقت ہو جاتا اور لوگ چاشت کی نماز پڑھ لیتےتو وہ پیالہ لایا گیا۔ یعنی اس میں ثرید تیار کیا گیا تھا۔لوگ اس کے گرد بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی (اور بیٹھنے کی جگہ تنگ ہو گئی) تو آپ ﷺ دو زانو بیٹھ گئے۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ: یہ کیسے بیٹھے ہیں؟ (یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تواضع و انکساری کرنے والا بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ اس کی بلندی (درمیانی حصے) کو چھوڑ دو، تمہارے لیے اس میں برکت رکھ دی جائے گی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn Busr (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had a large bowl called Al-Gharrā', which needed four men to carry it. One day, when they finished their Duha prayer, that bowl was brought full of bread sopped in broth, and they sat down around it. When their number increased, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) knelt down (sat on his knees, resting on his feet). A Bedouin said: "What sort of sitting is that!" Thereupon, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Verily, Allah has made me a noble slave, not an obstinate tyrant." Then he said: "Eat from the sides of the bowl and leave the center so that your food would be blessed."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن ابن ماجہSunan Ibn Majah
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4946

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ کے پاس ایک کھانے کا برتن تھا جسے ''غراء'' کہا جاتا تھا۔ اسے چار آدمی مل کر اٹھاتے تھے۔ جب چاشت کا وقت ہو جاتا اور انہوں نے چاشت کی نماز پڑھ لی تو اس برتن کو لایا گیا اور روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس میں ڈال دیا گیا۔ وہ سب اس برتن کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی اور بیٹھنے کا حلقہ ان کے لیے تنگ پڑ گیا تو نبی ﷺ اپنے بھائیوں کے لیے کشادگی پیدا کرنے کے لیے اپنے گھٹنوں کے بل اور اپنے پاؤں کی پشت پر بیٹھ گئے۔ حاضرین میں سے ایک اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیسے بیٹھنا ہوا! (ایسا اس نے اس لیے پوچھا) کیونکہ یہ بیٹھنے کا بہت ہی متواضع انداز تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے نبوت و علم عطا فرما کر متواضع بندہ بنایا ہے اور مجھے متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔ نبی ﷺ نہ تو متکبر تھے اور نہ ظالم۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: برتن کے کناروں سے کھاؤ اور اس کی چوٹی (درمیانی حصہ) کو چھوڑ دو، اس میں برکت ہو جائے گی۔ نبی ﷺ نے برتن کے کناروں سے کھانے اور اس کے بلند حصے کو چھوڑ رکھنے کا حکم دیا اور وضاحت فرمائی کہ یہ کھانے میں برکت پیدا ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had a big bowl to serve food in called Al-Gharrā' that four men used to carry. One day, when the Companions finished performing their Duha prayer, Al-Gharrā' was brought full of bread sopped in broth, and they sat down around it. When their number increased and the circle around the bowl became too narrow to accommodate everyone, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sat down on his knees resting on his feet to make room for his brothers. A Bedouin said to him in amazement: "What is this way of sitting, O Messenger of Allah," because of the humility it involved. Thereupon, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Verily, Allah has made me a noble slave through prophet-hood and knowledge, and He has not made me an obstinate tyrant." The Prophet was indeed neither arrogant nor despotic. Then he said to the Companions: "Eat from the sides of the bowl and leave its center," explaining that this is a reason to attain blessing in food.

Topics موضوعات