میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا”۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4958Sahih Muslim (HadeethEnc 4958)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو بتایا کہ آئندہ کل مسلمانوں کو مدینہ کے قریب واقع ایک شہر خیبر کے یہودیوں پر فتح مل جائے گی۔ یہ فتح ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر نصیب ہوگی، جسے آپ علَم، جو لشکر کا شعار ہوا کرتا ہے، عطا کریں گے، اس شخص کا ایک وصف یہ ہوگا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کو اس سے محبت ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ایک وہی دن تھا، جب ان کے اندر امارت کی محبت جاگی اور دل میں بلائے جانے کی خواہش اس امید میں پیدا ہوئی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ بیان کردہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت حاصل کرنے کی سعادت ان کو حاصل ہو جائے۔ وہ اپنے جسم کو دراز کر کے قد کو ذرا اونچا کرنے لگے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر پڑجائے، ان کا نام پکار لیا جائے اور علَم عطا کر دیا جائے۔
تاہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابو طالب کو بلایا، علَم عطا کر دیا اور حکم دیا کہ لشکر کے ساتھ چل پڑیں اور دشمن سے ملنے کے بعد ان قلعوں پر فتح حاصل ہو جانے تک راحت کی طلب میں یا صلح کی بنا پر جنگ سے دست بردار نہ ہوں۔
چنانچہ علی رضی اللہ عنہ چل پڑے۔ ایک بار رکے بھی، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی مخالفت سے بچنے کے لیے پیچھے مڑے نہيں، خیبر کی جانب منہ کر کے ہی بلند آواز سے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں لوگوں سے کس بات پر جنگ کروں؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : ان سے اس وقت تک جنگ کرو، جب تک اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر انھوں نے تمھاری اس دعوت کو قبول کر لیا اور اسلام میں داخل ہوگئے، تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو تم سے محفوظ کر لیا۔ ہاں، اگر کوئی ایسا جرم کر بیٹھیں کہ اسلام کے احکام کی روشنی میں قتل کے حق دار بن جائيں، تو بات الگ ہے۔ باقی ان کا حساب و کتاب لینا اللہ کا کام ہے۔
حدیث کے فوائد
- صحابہ کرام امارت وسرداری کو نا پسند کرتے تھے، کیوں کہ اس میں بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔
- جس معاملہ میں خیر کا پایا جانا مؤکد ہو، اس کی آرزو اور خواہش ظاہر کرنا جائز ہے۔
- امام کا لشکر کے قائد کو یہ رہنمائی کرنا کہ جنگ کے میدان میں کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔
- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ کی وصیتوں کی پاسداری کرتے اور انہیں روبہ عمل لانے کے لیے سبقت کرتے تھے۔
- جس شخص سے کسی چیز کا مطالبہ کیا جائے اور اسے سمجھ میں نہ آئے، تو اسے پوچھ لینا چاہئے۔
- محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی ہونے کے بے شمار دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ آپ نے خیبر کے یہودیوں پر فتح یاب ہونے کی بات کہی اور فتح یاب ہوئے بھی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر فوری عمل کی ترغیب۔
- جو شخص دونوں گواہیوں کا اقرار کرے، اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے، سوائے اس حال میں کہ اس سے کوئی ایسا عمل سرزد ہو جس سے قتل کرنا لازم آجائے۔
- لوگوں کے ظاہری اعمال کے مطابق ہی اسلامی احکام جاری ہوتے ہیں۔ ان کے باطن میں چھپے راز کا مالک اللہ ہے۔
- جہاد کا سب سے بڑا مقصد ہے، لوگوں کا مذہب اسلام میں داخل ہونا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed the Companions that Muslims would win victory over the Jews of Khaybar, a city near Madīnah, the following day at the hands of a man whom he would give the banner, i.e., the flag that the army takes as its slogan. Among the traits of this man is that he loves Allah and His Messenger, and Allah and His Messenger love him.
‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) mentioned that he never liked the idea of leadership or being one meant except that day in the hope that he might be the one to win the love of Allah and His Messenger that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) mentioned. ‘Umar (may Allah be pleased with him) stretched his body to be seen by the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), hoping that he would be called for that mission and out of keenness to take this banner.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) called ‘Ali ibn Abi Tālib (may Allah be pleased with him) and gave him the banner and ordered him to proceed with the army and not to quit the fight after encountering his enemy, for rest, a pause, or a truce until Allah grants him victory and dominance over these fortresses.
‘Ali (may Allah be pleased with him) proceeded, then he stopped but without looking back so as not to disobey the Prophet's command. He raised his voice and said: O Messenger of Allah, on what should I fight the people?
He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Fight them until they testify that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. If they respond and embrace Islam, then their blood and properties become inviolable and unlawful for you except what is rightly justified, i.e., unless they commit a crime or felony for which they deserve to be killed in compliance with the rulings of Islam, and their reckoning is with Allah.