صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم وہی کہیں گے جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے، اے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5026Sahih صحیح
عن أنس رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على ابنه إبراهيم رضي الله عنه وهو يجود بنفسه، فجعلت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم تذرفان. فقال له عبد الرحمن بن عوف: وأنت يا رسول الله؟! فقال: «يا ابن عوف إنها رحمة» ثم أتبعها بأخرى، فقال: «إن العين تدمع والقلب يحزن، ولا نقول إلا ما يرضي ربنا، وإنا لفراقك يا إبراهيم لمحزونون».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو آخری سانسیں لے رہے تھے۔ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔ اس پر عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا کہ اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: اے عوف کے بیٹے! یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم وہی کہیں گے جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) called upon his son Ibrahīm while he was breathing his last. The eyes of the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) began to shed tears. ‘Abdur-Rahmān ibn ‘Awf said to him: "And you too, O Messenger of Allah?" He said: "O Ibn ‘Awf, this is a mercy." Then he followed it by saying: "Indeed, the eyes shed tears and the heart is grieved, and we do not say except what pleases our Lord. And indeed, over your departure, O Ibrahīm, we are grieved."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5026

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

رسول اللہ ﷺ اپنے بیٹے ابراہیم کے پاس تشریف لائے جو قریب المرگ تھے۔ اس پر آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔ یہ دیکھ کر عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تعجب بھرے انداز میں کہا کہ: یا رسول اللہ! آپ بھی ایسے کر رہے ہیں؟ یعنی لوگ مصیبت پر صبر نہیں کرتے اور آپ ﷺ بھی انہی کی طرح کر رہے ہیں؟۔ گویا کہ ان کو آپ ﷺ کے اس فعل سے تعجب ہوا کیونکہ انہوں نے تو یہی دیکھا تھا کہ آپ ﷺ انہیں صبر کی تلقین کرتے رہتے ہیں اور انہیں بے صبری سے منع کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ رحم دلی کی وجہ سے ہے یعنی جو حالت تم نے دیکھی یہ بچے پر شفقت کی بدولت ہے۔ پھر آپ نے مزید فرمایا کہ آنکھ سے آنسو جاری ہیں، دل غمزدہ ہے تاہم ہم کہیں گے وہی بات جو ہمارے رب کو راضی کرے گی یعنی ہم (اللہ کی رضا پر) ناگواری کا اظہار نہیں کریں گے بلکہ صبر کریں گے۔ اور اے ابراہیم! ہم تیری جدائی کی وجہ سے غمگین ہیں۔ رحم دلی صبر اور تقدیر پر ایمان کے منافی نہیں ہے۔

Explanation

The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) called upon his son Ibrahīm when he was near death. The eyes of the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) started to flow with tears. ‘Abdur-Rahmān ibn ‘Awf said in astonishment: "And you too O Messenger of Allah?" Meaning: The people are not patient in the face of calamities, and are you too doing as they do? It was as if he was surprised to see the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in such a state, as he had always been known to encourage patience and forbid impatience. So, he answered him by saying that it was a mercy, meaning: the condition in which you see me is the softness of my heart towards the boy. He followed this with another statement: “Indeed, the eyes shed tears and the heart is grieved, and we do not say except what pleases our Lord,” meaning: we do not show displeasure, rather we show patience. “And indeed, over your departure, O Ibrahīm, we are grieved.” Therefore mercy does not contradict patience or belief in the divine decree.

Topics موضوعات