”منتر، تعویذ اور ٹوٹکے سب شرک ہیں“۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5273Sunan Abi Dawud & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5273)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ چیزیں بتائی ہيں، جن کو کرنا شرک ہے۔ مثلا :
1- جھاڑ پھونک اور منتر: وہ شرکیہ باتیں جن کو زمانۂ جاہلیت کے لوگ شفا حاصل کرنے کے لیے پڑھا کرتے تھے۔
2- سیپ وغیرہ سے بنے ہوئے تعویذ، جن کو بچوں اور جانوروں کے جسم میں نظر بد سے حفاظت کے لیے باندھا جاتا ہے۔
3- ٹوٹکے، جو میاں بیوی میں سے ایک کے اندر دوسرے کی محبت ڈالنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
یہ تینوں کام شرکیہ اعمال ہیں۔ کیوں کہ ان کاموں میں ایسی چیزوں کو سبب بنایا جاتا ہے، جو نہ تو دلیل سے ثابت شرعی سبب ہیں اور نہ تجربہ سے ثابت حسی سبب ہیں۔ رہی بات شرعی اسباب مثلا قرآن کی تلاوت اور حسی اسباب مثلا تجربہ سے ثابت شدہ دواؤں کی، تو ان کا استعمال اس عقیدے کے ساتھ کرنا جائز ہے کہ یہ محض اسباب ہیں اور نفع و نقصان کا مالک اللہ ہے۔
حدیث کے فوائد
- توحید اور عقیدے کو ہر خلل انداز چیز سے محفوظ رکھنا۔
- شرکیہ منتروں، تعویذوں اور ٹوٹکوں کا استعمال حرام ہے۔
- ان تینوں چیزوں کو اسباب سمجھنا شرک اصغر ہے، کیوں کہ یہ ایسی چیزوں کو سبب بنانا ہے، جو سبب نہيں ہيں۔ جب کہ ان کو بذات خود نفع و نقصان کرنے والا سمجھنا شرک اکبر ہے۔
- شرکیہ اور حرام اسباب کو بروئے کار لانے کی ممانعت۔
- منتروں کا استعمال حرام اور شرک ہے، سوائے ان منتروں کے جن کی اجازت شریعت نے دی ہے۔
- دل کا تعلق بس اللہ سے ہونا چاہیے۔ دل کے اندر یہ مضبوط یقین ہونا چاہیے کہ وہی نفع و نقصان کا مالک ہے اور اس معاملے میں اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔ بھلائی بس اللہ ہی دیتا ہے اور برائی سے بس وہی بچاتا ہے۔
- شفا کے لیے پڑھے جانے والے جائز کلمات کے اندر تین شرطیں پائی جانی چاہیے: 1- یہ اعتقاد ہو کہ یہ بس سبب ہیں اور فائدہ اللہ کی اجازت سے پہنچاتے ہیں۔ 2- پڑھے جانے والے کلمات قرآن سے لیے گئے ہوں، اللہ کے اسما و صفاپ پر مشتمل ہوں، نبوی دعاؤں سے لیے گئے ہوں یا مشروع دعاؤں میں سے ہوں۔ 3- ان کی زبان سمجھی جا سکے۔ طلسمات اور جادوئی کلمات نہ ہوں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that doing certain things constitutes polytheism, including:
First: Incantation: The words that involve polytheism, which the people of jāhiliyyah would recite for treatment.
Second: Amulets made of beads and the like: They are hung on children, animals, and other things to protect against the evil eye.
Third: Love potions: They are made to endear one of the two spouses to the other.
These things fall under polytheism, for they turn certain objects as causes, whereas they are neither Shar‘i causes established by proofs nor material causes proved by experiment. As for the Shar'i causes, like the recitation of the Qur'an, or the material ones, like the medicines proved by experiment, they are permissible, provided that we should believe that they are mere means. In contrast, benefit and harm are in Allah's Hands.