”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5347Sahih Muslim (HadeethEnc 5347)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہود و نصاری کو سلام کرنے میں پہل کرنے سے منع فرما رہے ہیں۔ خواہ وہ ذمی ہی کیوں نہ ہوں۔ دیگر کفار کو تو جانے ہی دیجیے۔ آپ نے بتایا ہے کہ جب راستے میں کسی یہودی یا عیسائی سے ہمارا سامنا ہو جائے، تو ہم اسے راستے کے تنگ ترین حصے کی جانب جانے پر مجبور کریں۔ بیچ راستے سے مومن چلے گا اور کافر کنارے کنارے چلے گا۔ ایک مومن کسی بھی حال میں رسوا نہیں ہوگا۔
حدیث کے فوائد
- ایک مسلمان کے لیے کسی یہودی، عیسائی یا کسی دوسرے کافر کو سلام کرنے میں پہل کرنا جائز نہيں ہے۔
- اگر وہ سلام کر دیں، تو ان کا جواب "و علیکم" کہہ کر دینا جائز ہے۔
- کسی مسلمان کے لیے جان بوجھ کر کسی کافر کو بلا وجہ اذیت دینا کہ اس کا راستہ تنگ کر دے، جائز نہيں ہے۔ لیکن اگر راستہ تنگ ہو یا بھیڑ بھاڑ ہو، تو اس میں چلنے کا حق مسلمان کا زیادہ ہے۔ ایسے میں کافر کنارے ہو جائے گا۔
- ظلم یا بد زبانی کے بغیر مسلمانوں کی عزت اور دوسروں کی ذلت کا اظہار۔
- اللہ کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے کافروں پر تنگی کرنا‘ ہو سکتا ہے کہ ان کے مسلمان ہونے کا سبب بن جائے۔ چنانچہ وہ سبب سے واقف ہونے کے بعد جہنم سے نجات پا جائيں۔
- ضرورت ہو تو پہل کرکے کسی کافر سے یہ سوالات پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ کیسے ہیں، آپ کی صبح کیسی رہی، آپ کی شام کیسی رہی‘ کیوں کہ منع صرف سلام کرنے سے کیا گیا ہے۔
- طیبی کہتے ہیں: اختیار کردہ مسئلہ یہ ہے کہ بدعتی کو بھی سلام کرنے میں پہل نہ کیا جائے۔ اگر کسی نے ایسے شخص کو سلام کر دیا، جسے پہچانتا نہ ہو اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ ذمی یا بدعتی ہے، تو اس کی تحقیر کے لیے کہہ دے کہ میں نے سلام واپس لے لیا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbids initiating the greeting of peace to the Jews or Christians even if they are Dhimmis (free non-Muslim subjects living in a Muslim country), let alone others from the disbelievers. He (may Allah's peace and blessings be upon him) further explained that if we meet one of them on the road, we should force him to the narrowest part thereof, as the believer is the one entitled to walk in the middle of the road and the disbeliever is the one who should make way. A Muslim should in no way be abject.