”طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دیتا ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے، جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے“۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5351Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5351)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اصل قوت جسمانی قوت اور طاقت ور لوگوں کو پچھاڑ دینے کی قوت نہیں ہے۔ بلکہ اصل قوت والا انسان وہ ہے، جو غصہ کے وقت اپنے نفس سے لڑے اور اس پر غالب رہے۔ کیوں کہ یہ اپنے اوپر کنٹرول رکھنے اور شیطان پر حاوی ہونے کی دلیل ہے۔
حدیث کے فوائد
- غصہ کے وقت بردباری برتنے اور اپنے اوپر کنٹرول رکھنے کی فضیلت۔ یہ دراصل ان اعلی اقدار میں سے ہے، جن کی اسلام نے ترغیب دی ہے۔
- غصے کے وقت اپنے نفس سے لڑنا دشمن سے لڑنے سے زیادہ مشکل ہے۔
- اسلام نے دور جاہلیت کی قوت کے مفہوم کو اعلی اقدار اور بلند اخلاق میں بدل دیا۔ چنانچہ سب سے طاقت ور انسان وہ ہے، جو اپنے اوپر کنٹرول رکھے۔
- غصے سے دور رہنا چاہیے، کیوں کہ غصہ فرد اور سماج کے لیے ایک نقصان دہ چیز ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) points out that true strength is not the strength of a person's body or his ability to overpower other strong men. But a truly strong person is one who strives to control and restrain himself while in a fit of rage. This indicates the power he exercises over himself and his ability to overpower the devil.