”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“۔
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود وأحمد
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5353Sunan Abi Dawud & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5353)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے کسی کافر، فاسق یا صالح قوم کی مشابہت اپنائی، مثلا عقائد، عبادتوں یا عادتوں سے جڑا ہوا کوئی ایسا کام کیا، جو ان کی خصوصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، تو اس کا شمار انہی لوگوں میں ہوگا۔ کیوں کہ ظاہری امور میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے باطنی مشابہت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہيں ہے کہ کسی قوم سے مشابہت اس سے مرعوبیت کا نتیجہ ہوتا ہے، جو کبھی کبھی اس سے محبت، اس کی تعظیم اور اس کی جانب میلان کا سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات اس کا نتیجہ اس سے باطنی اور عبادت تک میں مشابہت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اللہ کی پناہ۔
حدیث کے فوائد
- اس حدیث میں کافروں اور فاسقوں سے مشابہت اختیار کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
- اس حدیث میں نیک لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- ظاہری مشابہت باطنی مشابہت کا سبب بنتی ہے۔
- انسان مشابہت اور اس کی نوعیت کے مطابق وعید اور گناہ کا حق دار بنتا ہے۔
- دین اور خاص عادتوں کے معاملے میں کافروں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔ لیکن دیگر باتوں میں جیسے علم و ہنر وغیرہ سیکھنے میں مشابہت اختیار کرنا اس وعید کے دائرے میں نہیں آئے گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that whoever imitates some people – disbelievers, sinners, or righteous – by engaging in any of their peculiar traits, such as their creeds, acts of worship, or habits, becomes one of them. This is because outward imitation of them leads to inward imitation. In fact, imitation of any people indicates admiration of them, and it may result in loving, respecting, and inclining toward them, which may also prompt a person to even imitate them inwardly and in their worship – Allah forbid.