میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : “سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5359Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5359)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سب سے بڑے گناہ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: سب سے بڑا گناہ شرک اکبر ہے۔ شرک اکبر یہ ہے کہ کسی کو الوہیت، ربوبیت یا اسما و صفات میں اللہ کے جیسا مان لیا جائے۔ یہ ایسا گناہ ہے، جو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتا۔ اگر انسان یہ گناہ کرتا ہوا مر جائے، تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اس کے بعد دوسرا بڑا گناہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا ہے کہ وہ ساتھ میں کھائے گی۔ ویسے تو کسی بھی انسان کی جان لے لینا حرام ہے، لیکن گناہ اس وقت اور بڑا ہو جاتا ہے، جب مقتول کا قاتل سے رشتہ ہو۔ گناہ اس وقت بھی بڑا ہو جاتا ہے، جب قتل کے پیچھے یہ ڈر چھپا ہوا ہو کہ مقتول اللہ کی دی ہوئی روزی کھانے میں قاتل کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ تیسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی کی بیوی کو بہلا پھسلا کر راضی کر لے اور اس کے ساتھ منہ کالا کرے۔ ویسے تو زنا حرام ہے، لیکن اس کا گناہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے، جب زنا پڑوسی کی بیوی کے ساتھ کیا جائے، جس کے ساتھ شریعت نے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث کے فوائد
- گناہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، جس طرح کہ اچھے اعمال کی فضیلت میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
- سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا، پھر ساتھ میں کھانا کھانے کے ڈر سے اولاد کا قتل کرنا اور پھر پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرنا ہے۔
- روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ نے ساری مخلوقات کو روزی دینے کی ذمے داری خود اپنے اوپر لے رکھی ہے۔
- پڑوسی کے حق کی اہمیت اور اس بات کی وضاحت کہ پڑوسی کو اذیت دینا دوسرے کو اذیت دینے سے بڑا گناہ ہے۔
- صرف خالق ہی عبادت کا حق دار ہے۔ کوئی اور نہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was asked about the gravest sins and he answered: The gravest sin is major Shirk (polytheism), which means setting up an equal or a rival to Allah in His worship, Lordship, or His names and attributes. Allah Almighty does not forgive this sin except through repentance. If one dies in this state of major Shirk, he will dwell in Hellfire forever. The second gravest sin is killing one's child out of fear that he may share his food with him. So, killing a soul is unlawful, but the sin becomes graver when the killed person is a relative of the killer, and the gravity of the sin increases even more if the killer's motive is fear that the killed person would share with him the sustenance provided by Allah. The third gravest sin is committing adultery with his neighbor's wife by trying to deceive her, so he can have sexual intercourse with her and make her submit to him. Adultery is unlawful but the sin becomes graver when committed with the wife of one's neighbor, whom one is ordered by Shariah to treat with kindness, benevolence, and good companionship.