صحیح بخاری · سنن ابن ماجہ · مسند احمد
Sahih al-Bukhari · Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad

کھاؤ، صدقہ کرو اور پہنو، لیکن اسراف اور تکبر سے بچو۔

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5363Hasan حسن
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما مرفوعاً: "كُلُوا، وَاشْرَبُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَالْبَسُوا، غَيْرَ مَخِيلَة، وَلَا سَرَف".
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو اور پہنو، لیکن اسراف اور تکبر سے بچو“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Amr ibn al-‘Ās (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Eat, drink, give charity, and wear clothes without extravagance or pride."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - امام بخاری نے اسے صیغۂ جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5363

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

یہ حدیث کھانے، پینے اور لباس میں اسراف کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اور بغیر دکھاوے اور شہرت کے صدقہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ اسراف کا حقیقی معنی ہے: ہر فعل و قول میں حد سے تجاوز کرنا۔ تاہم خرچ کرنے کے معاملے میں حد سے گزرنے میں اسراف کے لفظ کا استعمال زیادہ مشہور ہے۔
یہ حدیث اللہ تعالی کے اس فرمان سے ماخوذ ہے کہ: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ ”کھاؤ اور پیو لیکن اسراف نہ کرو“۔ اس میں بڑائی اور تکبر کی حرمت کا بھی بیان ہے۔
نیز اس میں انسان کے اپنے نفس کے تئیں بہتر تدبیر اختیار کرنے کے فضائل اور دنیا و آخرت کے لحاظ سے روحانی اور جسمانی مصالح کا بیان ہے۔ کسی بھی شے میں اسراف جسم اور معیشت دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور زیاں کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی روح کو ضرر پہنچتا ہے؛ کیوں کہ یہ عموما جسم کے تابع ہوتی ہے۔ تکبر سے بھی روح کو ضرر لاحق ہوتا ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے اس میں خود پسندی آتی ہے اور آخرت کے لیے بھی یہ نقصان دہ ہے۔ کیوںکہ یہ گناہ کا سبب ہے اور دنیاوی اعتبار سے بھی یہ ضرر رساں ہے، بایں طور کہ اس کی وجہ سے لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تعلیقا روایت کی ہے کہ : ”جو چاہو، کھاؤ اور جو چاہو، پیو، جب تک کہ دو باتیں تم میں نہ آئیں: اسراف اور تکبر“۔

Explanation

This Hadīth highlights the prohibition of extravagance in terms of food, drink and clothes. It is also a command to avoid ostentation and seeking fame when giving charity. Extravagance refers to exceeding the limit in every act or saying: but it is more commonly practiced in spending. The Hadīth corresponds to the verse where Allah, the Almighty, says: {Eat and drink and be not extravagant} [Sūrat al-A‘rāf: 31]. In addition, the Hadīth indicates the prohibition of pride and arrogance. This Hadīth combines all virtues related to one's management of his own affairs. It combines what is good for the soul and body in this world and in the Hereafter. Extravagance in everything is harmful to the body and the way of living. It leads to waste that harms the soul if it follows the body most of the time. As for pride, it harms the soul because it fills it with conceit and it, thus, negatively affects one's afterlife, because it urges him to sins. Pride also badly affects his life because it makes people hate him. Al-Bukhāri reported the following on the authority of Ibn ‘Abbās: "Eat whatever you want and drink whatever you want as long as you avoid extravagance and pride."

Topics موضوعات