”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5365Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5365)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت بند رکھے اور یہ حالت بنائے رکھے کہ دونوں ایک دوسرے سے ملیں ، لیکن سلام کلام کچھ نہ ہو۔
ان دونوں میں بہتر شخص وہ ہے جو قطع کلامی کے اس سلسلے کو توڑے اور آگے بڑھ کر سلام کرے۔ معلوم رہے کہ یہاں بات چیت بند رکھنے سے مراد ذاتی مفاد کی خاطر بات چیت بند رکھنا ہے۔ رہی بات اللہ کے حق کی خاطر بات چیت بند رکھنے کی، جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کرنے والوں، بدعتیوں اور برے ساتھیوں سے قطع کلامی کرنا، تو اس کے لیے وقت کی کوئی تحدید نہيں ہے۔ اس کا تعلق قطع کلامی کے پیچھے کار فرما مصلحت سے ہے۔ جیسے ہی یہ مصلحت دور ہو جائے، قطع کلامی کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیے۔
حدیث کے فوائد
- انسانی طبیعت کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے تین دن یا اس سے کم وقت تک بات چیت بند رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
- سلام کی فضیلت، سلام سے دل کی کدورتیں دور ہوتی ہیں اور سلام محبت کی نشانی ہے۔
- اسلام مسلمانوں کے بیچ اخوت اور محبت کی فضا قائم کرنا چاہتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade that a Muslim should desert his fellow Muslim for more than three nights. None of them greets the other or talks to him when they meet.
The best of such two estranged persons is the one who tries to end their estrangement, so he greets the other first. The kind of desertion intended in this Hadīth is what a person engages in for his own sake. However, a person may desert others for the sake of Allah Almighty, like deserting sinners, heretic innovators, and bad companions. This does not have a time limit. Instead, it is contingent on a cause and should end when the cause is no longer there.