Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا، جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے”۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا، جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے"۔
Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Allah does not look at the one who drags his garment out of conceit."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5370

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھمنڈ کے طور پر کپڑے یا ازار کو ٹخنوں کے نیچے لٹکائے رکھنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایسا کرنے والا اس شدید وعید کا حق دار ہے کہ اللہ قیامت کی دن اس پر رحمت کی نظر نہیں ڈالے گا۔

حدیث کے فوائد

  • حدیث میں وارد لفظ "ثوب" (کپڑے) کے اندر پاجامہ اور لنگی وغیرہ وہ سارے کپڑے داخل ہیں، جو بدن کے نچلے حصے کو ڈھانپتے ہیں۔
  • (ٹخنے سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی ممانعت مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ نووی کہتے ہیں: عورتوں کے لیے کپڑا لٹکانے کے جواز پر علما کا اجماع ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح حدیث میں انھیں ایک ہاتھ کپڑا لٹکانے کی اجازت دی گئی ہے۔
  • ابن باز کہتے ہیں: مردوں کے لیے کپڑا لٹکا کر پہننا عام احادیث کی بنا پر ممنوع وحرام ہے۔ لیکن اس کی سزا ایک جیسی ہو یہ ضروری نہيں ہے۔ الگ الگ بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ تکبر کے ساتھ لٹکانے والا تکبر کے بغیر لٹکانے والے کی طرح نہیں ہے۔
  • ابن باز کہتے ہيں: عورت کے پورے جسم کو چھپانا ضروری ہے۔ لہذا اس کے لیے ایک بالشت لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر اتنا کافی نہ ہو، تو ٹخنوں کے نیچے ایک ہاتھ لٹکائے گی۔
  • قاضی کہتے ہیں: علما نے کہا: خلاصۂ کلام یہ کہ لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے ضرورت اور عادت سے زیادہ ہر لباس ناپسندیدہ ہے۔ واللہ اعلم
  • نووی کہتے ہيں: ویسے تو قمیص اور لنگی کے کنارے کو نصف پنڈلی پر رکھنا مستحب ہے۔ لیکن پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان کہیں بھی رکھنے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ اگر اس سے نیچے رکھا جاتا ہے تو جسم کا وہ حصہ آگ میں داخل ہوگا۔ اس طرح آدھی پنڈلی پر رکھنا مستحب اور اس سے نیچے ٹخنوں تک رکھنا بلا کراہت جائز ہے۔ جب کہ ٹخنوں کے نیچے اتارنا ممنوع ہے۔
  • ابن عثیمین کہتے ہيں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ "لا ينظر الله إليه" کے معنی ہیں: رحمت و رافت کی نظر سے نہيں دیکھے گا۔ یہاں مراد عام نظر نہیں ہے۔ کیوں کہ اللہ سے نہ کوئی چيز مخفی رہتی ہے اور نہ اس کی نظر سے کچھ اوجھل رہتا ہے۔ یہاں مراد بس رحمت و رافت کی نظر سے دیکھنا ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned against lengthening the garment or the lower garment below the ankles by way of conceit and arrogance, pointing out that whoever does so will deserve the severe punishment that Allah will not look at him mercifully on the Day of Judgment.

Topics موضوعات