اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا، جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے”۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5370Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5370)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھمنڈ کے طور پر کپڑے یا ازار کو ٹخنوں کے نیچے لٹکائے رکھنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایسا کرنے والا اس شدید وعید کا حق دار ہے کہ اللہ قیامت کی دن اس پر رحمت کی نظر نہیں ڈالے گا۔
حدیث کے فوائد
- حدیث میں وارد لفظ "ثوب" (کپڑے) کے اندر پاجامہ اور لنگی وغیرہ وہ سارے کپڑے داخل ہیں، جو بدن کے نچلے حصے کو ڈھانپتے ہیں۔
- (ٹخنے سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی ممانعت مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ نووی کہتے ہیں: عورتوں کے لیے کپڑا لٹکانے کے جواز پر علما کا اجماع ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح حدیث میں انھیں ایک ہاتھ کپڑا لٹکانے کی اجازت دی گئی ہے۔
- ابن باز کہتے ہیں: مردوں کے لیے کپڑا لٹکا کر پہننا عام احادیث کی بنا پر ممنوع وحرام ہے۔ لیکن اس کی سزا ایک جیسی ہو یہ ضروری نہيں ہے۔ الگ الگ بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ تکبر کے ساتھ لٹکانے والا تکبر کے بغیر لٹکانے والے کی طرح نہیں ہے۔
- ابن باز کہتے ہيں: عورت کے پورے جسم کو چھپانا ضروری ہے۔ لہذا اس کے لیے ایک بالشت لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر اتنا کافی نہ ہو، تو ٹخنوں کے نیچے ایک ہاتھ لٹکائے گی۔
- قاضی کہتے ہیں: علما نے کہا: خلاصۂ کلام یہ کہ لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے ضرورت اور عادت سے زیادہ ہر لباس ناپسندیدہ ہے۔ واللہ اعلم
- نووی کہتے ہيں: ویسے تو قمیص اور لنگی کے کنارے کو نصف پنڈلی پر رکھنا مستحب ہے۔ لیکن پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان کہیں بھی رکھنے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ اگر اس سے نیچے رکھا جاتا ہے تو جسم کا وہ حصہ آگ میں داخل ہوگا۔ اس طرح آدھی پنڈلی پر رکھنا مستحب اور اس سے نیچے ٹخنوں تک رکھنا بلا کراہت جائز ہے۔ جب کہ ٹخنوں کے نیچے اتارنا ممنوع ہے۔
- ابن عثیمین کہتے ہيں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ "لا ينظر الله إليه" کے معنی ہیں: رحمت و رافت کی نظر سے نہيں دیکھے گا۔ یہاں مراد عام نظر نہیں ہے۔ کیوں کہ اللہ سے نہ کوئی چيز مخفی رہتی ہے اور نہ اس کی نظر سے کچھ اوجھل رہتا ہے۔ یہاں مراد بس رحمت و رافت کی نظر سے دیکھنا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned against lengthening the garment or the lower garment below the ankles by way of conceit and arrogance, pointing out that whoever does so will deserve the severe punishment that Allah will not look at him mercifully on the Day of Judgment.