Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

نجاشی (بادشاہ) کے فوت ہونے کے دن نبیﷺ نے اس کے وفات کی خبر دی۔ آپ ﷺ باہر جناہ گاہ کی طرف گئے، لوگوں کے ساتھ…

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «نَعَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم النَّجَاشِيَّ في اليوم الذي مات فيه، خرج بهم إلى المصلَّى، فصفَّ بهم، وكَبَّرَ أَرْبَعاً».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نجاشی (بادشاہ) کے فوت ہونے کے دن نبی ﷺ نے اُن کی موت کی خبر دی۔ آپ ﷺ باہر جناہ گاہ کی طرف گئے، لوگوں کے ساتھ صف بندی کی اور چار تکبیرات (نماز جنازہ میں) کہیں۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) announced the death of the Negus on the day he had died. He took the people to the prayer place, lined them up, and made four Takbīrs.

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5396

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نجاشی حبشہ کا بادشاہ تھا جس نے مہاجرین صحابہ کے ساتھ اس وقت بہت نیک سلوک کیا تھا جب انہیں مکہ میں قریش نے بہت تنگ کیا اور بالآخر انہوں نے اہل مدینہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کر لی۔ پھر اپنی حسنِ نیت، حق کی پیروی اور تکبر سے پرہیز کی وجہ سے اُس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کی موت اپنی سرزمین پر ہی واقع ہوئی اور اس نے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا تھا۔
مسلمانوں کے ساتھ اس کے نیک سلوک اور اس کے مرتبے کی بلندی کی وجہ سے اور ایسی جگہ ہونے کی وجہ سے جہاں اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی تھی آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو اس کی وفات کے دن اس کی موت کی خبر دی۔ آپ ﷺ صحابہ کو لے کر جنازہ گاہ کی طرف آئے۔ ایسا نجاشی کی عظمتِ شان کے بیان، اس کے اسلام لانے کے اعلان، اس کی فضیلت کے اظہار، مہاجرین کے ساتھ اس نے جو کچھ کیا تھا اس کے بدلے میں اور اس کی نماز جنازہ کے مجمع کو بڑھانے کے لیے کیا گیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ صف بندی کی اور اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ آپ ﷺ نے اس نماز میں چار تکبیرات کہیں۔ یہ آپ ﷺ کی طرف سے نجاشی کے لیے اللہ کے حضور شفاعت تھی۔

Explanation

The Negus, king of Abyssinia, did the Muslim emigrants a generous favor. When Quraysh in Makkah oppressed Muslims, they sought refuge in Abyssinia before there was a Muslim community in Madīnah. There in Abyssinia, the Negus received them well and treated them with hospitality. His sincere intention and lack of arrogance led him to accept the truth and convert to Islam. He died in his country without seeing the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). Because of his favors to Muslims, his high esteem, and dying in a land where no Muslim prayers were said over him, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed his Companions of his death and took them out to the prayer place to say prayers on him. By this, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) declared that the Negus had converted to Islam and also paid him tribute for his position and generosity. The Prophet's prayer with the Muslim congregation would be an intercession with Allah, the Almighty, in favor of the Negus.

Topics موضوعات