”جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا، اس کے لیے اللہ نے جہنم کو واجب اور جنت کو حرام کردیا ہے“۔ ایک…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5430Sahih Muslim (HadeethEnc 5430)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جان بوجھ کر کسی مسلمان کا حق چھیننے کے لیے اللہ کی جھوٹی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ اس سے انسان جہنم کا مستحق بن جاتا ہے اور جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ آپ کی بات سننے کے بعد ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جس چيز کے لیے قسم کھائی گئی ہے، وہ تھوڑی ہو تب بھی یہی سزا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا: وہ مسواک کے لیے استعمال میں آنے والی پیلو کے پیڑ کی ایک لکڑی ہو، تب بھی یہی سزا ہے۔
حدیث کے فوائد
- اس حدیث میں دوسرے کا حق مارنے سے خبردار کیا گیا ہے اور صاحب حق کو اس کا حق دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حق چاہے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ ساتھ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ حاکم کا غلط حکم کسی انسان کے لیے ایسی چیز کو مباح نہیں کرتا، جو اس کا نہ ہو۔
- نووی کہتے ہيں: مسلمانوں کا حق مارنا سخت حرام ہے اور اس معاملے میں چھوٹے اور بڑے حق کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔"
- نووی کہتے ہيں: یہ سزا اس شخص کے لیے ہے جو کسی مسلمان کا حق مارے اور توبہ کرنے سے پہلے مر جائے۔ اگر کسی نے توبہ کر لی، اپنے کیے پر نادم ہوا، حق والے کو اس کا حق لوٹا دیا، معافی تلافی کرا لی اور دوبارہ اس گناہ کو نہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیا، تو اس کا گناہ ختم ہو گیا۔
- قاضی کہتے ہيں: یہاں مسلمانوں کا ذکر بطور خاص اس لیے ہوا ہے کہ وہی شریعت کے مخاطب اور اس پر عمل کرنے والے عام لوگ ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر مسلم کا حق چھینا جا سکتا ہے۔ مسلمان کی طرح غیر مسلم کا حق بھی چھینا نہیں جا سکتا۔
- نووی کہتے ہیں: کذب یعنی جھوٹ کسی چیز کے بارے میں اس کی حقیقت کے برخلاف بتانے کا نام ہے۔ خواہ بتانے کا کام عمدًا ہو یا سہوًا۔ اس چیز کا تعلق ماضی سے ہو یا مستقبل سے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned against falsely swearing by Allah, knowingly, to unjustly take the right of a Muslim person. The punishment for this is to be deserving of Hellfire and to be deprived of Paradise, and it is considered one of the major sins. A man said: O Messenger of Allah, even if the thing being sworn about is something insignificant? He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Even if it is a tooth-stick taken from the Arāk tree.