جس نے اپنے بھائی کی عزت یا کسی اور شے میں حق تلفی کی ہو، اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اس سے بری الذمہ ہو جائے، اس سے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5438Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 5438)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
یہ حدیث عدلِ اجتماعی کے ان مظاہر میں سے ایک مظہر کی تصویر کشی کرتی ہے، جنھیں اسلام اپنے ماننے والوں کے مابین عام کرنا چاہتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مَنْ كَانَتْ عِندَهُ مَظْلَمَةٌ“: یعنی وہ شے جسے ظالم نے (ناحق) چھین لیا ہو یا پھر وہ اس کے درپے ہو۔
آپ ﷺ کا فرمان: ”اپنے بھائی کی“ یعنی اپنے دینی بھائی کی۔
اس جرم میں متعدد امور شامل ہیں:
”اس کی عزت“ یہ حق تلفی کی وضاحت ہے۔ اس سے مراد انسانی شخصیت کے وہ پہلو ہیں، جن کی حفاظت وہ کرتا ہے اوران کی ہتک کو برداشت نہیں کرتا، جیسےاس کی جان اور حسب و نسب۔
”یا کوئی اور شے“ یعنی کوئی اور چیز ہو، جیسے اس کا مال چھیننا یا پھر اسے اس سے نفع اٹھانے سے روکنا یا پھر یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ (یعنی پہلے خاص عزت کا ذکر کیا اور پھر 'یا کسی اور شے میں حق تلفی' کہہ کراس کے متعلق ہر شے کو شمار کر دیا)۔
تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ”وہ اس سے بری الذمہ ہو جائے“ یعنی ظالم مظلوم سے درخواست کرے کہ وہ اسے بری الذمہ کر دے۔”منه“ یعنی مظلوم سے۔
”آج ہی“ کے الفاظ میں جلدی کرنے کی تاکید ہے۔ اس سے مراد دنیوی زندگی کے ایام ہیں؛ کیوںکہ اس کے مقابلے میں فرمایا: ”اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ دینار ہوں گےاور نہ درہم“ اس سے مراد قیامت کا دن ہے اور اس پیرائے میں تنبیہ ہے کہ اس شخص پر اس سے بری الذمہ ہونا واجب ہے، اگرچہ اس حق تلفی کو زائل کرنے میں اسے درہم و دینارہی خرچ کرنے پڑیں؛ کیوں کہ بری الذمہ ہونے کے کے لیے اگر آج (دنیا میں) درہم و دینار کا لیا جانا اس سے آسان ہے کہ بری الذمہ نہ ہونے کی صورت میں نیکیاں لے لی جائیں یا پھر برائیاں (اس پر) ڈال دی جائیں، جیسا کہ آپ ﷺ نے یہ فرما کر اشارہ کیا کہ: ”اگر اس کی کچھ نیکیاں ہوں گی“ بایں طور کہ وہ ایسا ظالم مومن ہو، جسے مظلوم کی طرف سے معاف نہ کیا گیا ہو، تو اس کے نتیجے میں اس کے نیک اعمال لے لیے جائیں گے۔
”اس سے“ یعنی اس شخص کی نیکیاں جس نے دوسرے پر ظلم کیا (لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی) اور اس طرح سے انھیں لے کر بدلہ چکایا دیاجائے گا۔
”اس کی حق تلفی کے بقدر“ طاعت و معصیت کی مقدار اور کیفیت کو کیسے جانا جائے گا؟، اس کا علم اللہ سبحانہ و تعالی کے پاس ہے۔
اگر زیادتی کا مرتکب ہونے والا شخص قیامت کے دن نیکیوں سے تہی دامن ہوا، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں“ یعنی اس کی نیکیاں باقی نہ بچیں یا پھر کوئی نیکی ہوئی ہی نہ، تو اللہ اسے ایسے طریقے سے عذاب دے گا جس سے اس کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور اس کا عذاب بڑھ جائے گا۔ مظلوم سے اس کی برائیاں لے کر ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) commanded that anyone who has wronged his Muslim brother—whether in honor, wealth, or blood—must seek his pardon while still in this worldly life, before the Day of Judgment comes, where neither a gold dinar nor a silver dirham will benefit him as ransom. On that Day, compensation will be made by good and bad deeds: the one who was wronged will take from the good deeds of the wrongdoer in proportion to the injustice done to him. And if the wrongdoer has no good deeds, then the sins of the oppressed will be placed upon the oppressor, in equal measure to the wrong committed.