نبی ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا،…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: أَنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم دعا بإناءٍ من مَاءٍ، فأُتِيَ بقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فيهِ شَيْءٌ من ماءٍ، فوضعَ أَصَابِعَهُ فيهِ، قال أنس: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إلى الماءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ ما بَيْنَ السبعينَ إلى الثمانينَ.
ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا، آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اندازے کے مطابق (اس ایک پیالہ پانی سے) جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستّر سے اسّی افراد تک تھے۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متعدد روایات کے ساتھ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5446Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5446)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
انس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ: نماز کا وقت ہوگیا یعنی مدینہ میں صحابہ نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا۔ جس کا گھر مسجد سے قریب تھا وہ چلا گیا یعنی جن کے گھر وہاں سے قریب ہی تھے وہ وضو کرنے کے لیے گھر چلے گئے۔ ”کچھ لوگ باقی رہے“ یعنی وہ لوگ نبی ﷺ کے پاس رہ گیے جن کے گھر دور تھے۔
نبی ﷺ کے پاس پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ بعض روایات میں اس برتن کو '”رَحرَاح“' کی صفت سے موصوف کیا گیا ہے۔ (یعنی چوڑے منہ والا ایسا برتن جس کا پیندا زیادہ گہرا نہ ہو)۔ اس چھوٹے سے برتن میں جب آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلانا چاہا تو یہ تنگ پڑ رہا تھا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کتنے افراد تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسّی سے کچھ اوپر۔
Explanation
Anas (may Allah be pleased with him) tells that the ‘Asr (Afternoon) prayer became due while the Companions were with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in Madīnah. Those whose homes were nearby went there to make ablution. Those with distant homes stayed. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was brought a stone pot with some water in it. The pot, however, was so small to accommodate the Prophet's hand. Nevertheless, the Companions, who were eighty or more, were able to make ablution therefrom.