دونعمتیں ایسی ہیں، جن کے بارے میں بہت سارے لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) خسارے اور گھاٹے میں رہتے ہیں۔…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5449Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 5449)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں انسان کو حاصل اللہ کی دو عظیم ترین نعمتوں کے بارے میں خبر دی ہے، جن کے غلط استعمال کی وجہ سے اکثر لوگ ان کے بارے میں خسارے میں رہتے ہيں۔ کیوں کہ جب انسان کے پاس صحت وفراغت دونوں رہتی ہیں، تو اس پر نیکی کے کاموں میں سستی حاوی ہو جاتی ہے اور اس طرح وہ گھاٹا اٹھانے والا ٹھہر جاتا ہے۔ اکثر یہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن اگر دونوں کا استعمال نیکی کے کاموں میں کر لیتا ہے، تو نفع اٹھانے والا ٹھہرتا ہے۔ کیوں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ دنیا میں جو تجارت ہوتی ہے اس کا نفع آخرت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ فراغت کے بعد مشغولیت آجاتی ہے اور صحت کے بعد بیماری آجاتی ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو بڑھاپا آجاتا ہے اور اس کے بعد زیادہ کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔
حدیث کے فوائد
- مکلف انسان کو تاجر سے اور صحت وفراغت کو سرمایہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چنانچہ جو شخص اپنے سرمایہ کو بہتر انداز میں استعمال کرتا ہے وہ فائدے میں رہتا ہے اور جو شخص سرمایہ کو ضائع کردیتا ہے وہ خسارہ اور ندامت کا سامنا کرتا ہے۔
- ابن خازن کہتے ہيں: نعمت وہ ہے جس سے انسان لطف اندوز اور لذت یاب ہو۔ جب کہ 'غبن' یہ ہے کہ انسان کسی چيز کو اس کی قیمت سے کئی گنا قیمت میں خریدے یا ثمن مثل سے کم قیمت میں بیچے۔ ان باتوں کو دھیان میں رکھنے کے بعد جان لیں کہ جس کا جسم تندرست ہو، کندھوں پر مشغولیتوں کا بوجھ نہ ہو اور اس کے باوجود وہ اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کام نہ کرے، تو وہ خرید وفروخت میں 'غبن' کے شکار انسان کی طرح ہے۔
- اللہ پاک کا تقرب حاصل کرنے اور خیر وبھلائی کے کام کرنے کے لیے صحت وفراغت سےخوب فائدہ اٹھانا چاہیے، قبل اس کے کہ وہ ہاتھ سے نکل جائیں۔
- اللہ کی نعمتوں کا شکر یہ ہے کہ انہیں اللہ کی اطاعت میں استعمال کیا جائے۔
- قاضی اور ابو بکر ابن عربی کہتے ہیں: بندے پر اللہ کی پہلی نعمت کون سی ہے، اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق پہلی نعمت ایمان ہے، کچھ لوگوں کے مطابق حیات ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق صحت۔ پہلا قول زیادہ بہتر ہے، کیوں کہ وہ مطلق نعمت ہے، جب کہ حیات اور صحت دنیوی نعمتیں ہیں اور کوئی نعمت اسی وقت حقیقی نعمت بن سکتی ہے جب ایمان سے جڑی ہوئی ہو۔ ایسے میں اس سلسلے میں بہت سے لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ یعنی ان کا نفع ختم ہو جاتا ہے یا گھٹ جاتا ہے۔ جس نے برائی کا حکم دینے والے اور آرام و راحت کی جانب جھکاؤ رکھنے والے نفس کی پیروی کی، حدود اللہ کے اتباع سے گریز کیا اور نیکی کے کاموں میں پابندی برتنے میں سستی دکھائی، وہ گھاٹے میں رہا۔ اسی طرح جب فرصت کے لمحات میسر رہے اور فائدہ نہيں اٹھایا، تو گھاٹے میں رہا۔ کیوں کہ مشغول انسان کے پاس مشغولیت کا عذر ہوا کرتا ہے، جس کی بنا پر اسے معذور سمجھا جا سکتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed about two great blessings that Allah bestows upon man, in which many people suffer loss because they use them inappropriately. When a person is blessed with both health and free time but is overcome by laziness in worship, he is among the losers, and this is the case with most people. However, if a person uses his free time and health in obeying Allah, he is the winner, for this world is the cultivation ground for the Hereafter, and in it lies the trade whose profit will be realized in the Hereafter. Free time is followed by preoccupation, and health is followed by sickness; and if nothing else except old age, it would suffice as a reminder.