اے اللہ! میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور مصیبت میں دشمنوں کی خوشی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه النسائي وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5489Sunan an-Nasa'i & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5489)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل چیزوں سے پناہ مانگی ہے:
1- "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ"۔ اے اللہ! میں صرف اور صرف تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے دباؤ، بوجھ، غم اور بے چینی سے۔ میں تیری مدد مانگتا ہوں اس بات پر کہ اسے ادا کر سکوں۔
2- "وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ"۔ دشمن کے قہر و تسلط سے۔ دعا ہے کہ تو اس کے ظلم و ستم کو روک لے اور مجھے اس پر فتح یاب کر۔
3- "وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ"۔ مسلمانوں کے اوپر آنے والی بلا و مصیبت پر دشمنوں کے خوش ہونے سے۔
حدیث کے فوائد
- ان تمام چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کی ترغیب، جو انسان کے پاس نیکی کے کاموں کے لیے موقع نہیں چھوڑتیں اور غم و اندوہ کا باعث بنتی ہیں۔ جیسے قرض وغیرہ۔
- مطلق قرض میں کوئی حرج نہيں ہے۔ حرج اس وقت ہے، جب انسان کے پاس قرض چکانے کی طاقت نہ ہو۔ اسی قرض کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
- انسان کو ایسی چيزوں سے دور رہنا چاہیے، جن سے اس کی جگ ہنسائی ہو اور اس پر انگلی اٹھے۔
- اہل ایمان سے کافروں کی عداوت اور ان پر مصیبت آنے پر ان کے خوش ہونے کا بیان۔
- مصیبت کے وقت دشمنوں کے ہنسنے سے مصیبت دو چند ہو جاتی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sought refuge from several things, which are:
First: (O Allah, I seek refuge), shelter, and protection (with You) not with anyone else (from the dominance of debt), its subjugation, grief, and distress, and I ask You for support to repay and settle it.
Second: (The dominance of the enemy), his subjugation and overpowering, and I ask You to ward off his harm and grant me victory over him.
Third: (And the gloat of the enemies) and their rejoicing at what befalls Muslims of misfortunes and calamities.