لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5520Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5520)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کو دیکھا، تو آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آپ کی طرف دوڑ کر جانے والوں میں عبداللہ بن سلام بھی شامل تھے۔ وہ یہودی تھے۔ آپ کو دیکھ کر انھوں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے نور، جمال اور سچی ہیبت آشکارا تھی۔ اس دوران انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جو پہلی بات سنی، وہ یہ تھی کہ آپ نے لوگوں کو کچھ ایسے اعمال کی ترغیب دی، جو دخول جنت کا سبب ہیں۔ جیسے:
1- سلام عام کرنا اور بہت زیادہ سلام کرنا۔ جان پہچان والے کو بھی اور ان جان کو بھی۔
2- کھانا کھلانا۔ شکل صدقہ کی ہو، ہدیہ کی ہو یا ضیافت کی ہو۔
3- رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔ رشتہ داری والد کی جانب کی ہو یا والدہ کی جانب کی۔
4- رات کے وقت، جب لوگ سو رہے ہوں، جاگ کر نفل نماز پڑھنا۔
حدیث کے فوائد
- مسلمانوں کے درمیان سلام عام کرنا مستحب ہے۔ لیکن غیر مسلم کو سلام نہیں کیا جائے گا۔ اگر وہ السلام علیکم کہہ کر سلام کر دے، تو جواب میں بس و علیکم کہا جائے گا۔
Explanation
When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) came to Madīnah and the people saw him, they rushed toward him. Among them was ‘Abdullāh ibn Salām (may Allah be pleased with him), who was a Jew. As he saw him, he knew that his face was not one of a liar, given the light, beauty, and true awe that appeared on it. The first thing he heard from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was that he urged the people to perform deeds that lead them to enter Paradise, such as the following:
First: Spreading and proclaiming the greeting of peace and frequently doing it, greeting those you know and those you do not know.
Second: Feeding people through charity, gift, and hospitality.
Third: Upholding kinship ties from the father's or mother's side.
Fourth: Offering the supererogatory prayer of Qiyām al-Layl while people are asleep.