جامع ترمذی · سنن ابن ماجہ · مسند احمد
Jami' at-Tirmidhi · Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad

لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5520Sahih صحیح
عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ رضي الله عنه قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ قِبَلَهُ، وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ، ثَلَاثًا، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ، فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ، عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ».
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے، تو لوگ آپ کی جانب دوڑ پڑے۔ ہر طرف شور تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں۔ یہ جملہ انھوں نے تین بار دوہرایا۔ دیکھنے کے لیے میں بھی لوگوں کی بھیڑ میں داخل ہوا۔ جب دھیان سے آپ کا چہرہ دیکھا تو میرے لیے یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہيں ہو سکتا۔ اس دوران میں نے آپ کو جو پہلی بات کہتے ہوئے سنی، وہ یہ تھی : "لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤگے۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn Salām (may Allah be pleased with him) reported: When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) came to Madīnah, the people rushed to meet him, and it was said: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) has come! The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) has come! The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) has come! Three times. I came with the people to see him, and when I saw his face clearly, I knew that his face was not the face of a liar. The first thing I heard him say was: "O people, spread the greeting of peace, feed others, maintain kinship ties, and pray at night when people are asleep, and you will enter Paradise in peace."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5520

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کو دیکھا، تو آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آپ کی طرف دوڑ کر جانے والوں میں عبداللہ بن سلام بھی شامل تھے۔ وہ یہودی تھے۔ آپ کو دیکھ کر انھوں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے نور، جمال اور سچی ہیبت آشکارا تھی۔ اس دوران انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جو پہلی بات سنی، وہ یہ تھی کہ آپ نے لوگوں کو کچھ ایسے اعمال کی ترغیب دی، جو دخول جنت کا سبب ہیں۔ جیسے:

1- سلام عام کرنا اور بہت زیادہ سلام کرنا۔ جان پہچان والے کو بھی اور ان جان کو بھی۔

2- کھانا کھلانا۔ شکل صدقہ کی ہو، ہدیہ کی ہو یا ضیافت کی ہو۔

3- رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔ رشتہ داری والد کی جانب کی ہو یا والدہ کی جانب کی۔

4- رات کے وقت، جب لوگ سو رہے ہوں، جاگ کر نفل نماز پڑھنا۔

حدیث کے فوائد

  • مسلمانوں کے درمیان سلام عام کرنا مستحب ہے۔ لیکن غیر مسلم کو سلام نہیں کیا جائے گا۔ اگر وہ السلام علیکم کہہ کر سلام کر دے، تو جواب میں بس و علیکم کہا جائے گا۔

Explanation

When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) came to Madīnah and the people saw him, they rushed toward him. Among them was ‘Abdullāh ibn Salām (may Allah be pleased with him), who was a Jew. As he saw him, he knew that his face was not one of a liar, given the light, beauty, and true awe that appeared on it. The first thing he heard from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was that he urged the people to perform deeds that lead them to enter Paradise, such as the following:

First: Spreading and proclaiming the greeting of peace and frequently doing it, greeting those you know and those you do not know.

Second: Feeding people through charity, gift, and hospitality.

Third: Upholding kinship ties from the father's or mother's side.

Fourth: Offering the supererogatory prayer of Qiyām al-Layl while people are asleep.

Topics موضوعات