صحیح مسلم
Sahih Muslim

بے شک قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار ہوا اور تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5544Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه قَال: قَالَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : "إنَّ اللهَ عز وجل يَقُولُ يَومَ القِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أعُودُكَ وَأنْتَ رَبُّ العَالَمِينَ؟!، قَالَ: أمَا عَلِمْتَ أنَّ عَبْدِي فُلاَناً مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ! أمَا عَلِمْتَ أنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَني عِنْدَهُ! يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أطْعِمُكَ وَأنْتَ رَبُّ العَالَمِينَ؟! قَالَ: أمَا عَلِمْتَ أنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ! أمَا عَلِمْتَ أنَّكَ لَوْ أطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي! يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أسْقِيكَ وَأنْتَ رَبُّ العَالَمينَ؟! قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلاَنٌ فَلَمْ تَسْقِهِ! أمَا عَلِمْتَ أنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پُرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے مجھے نہیں کھلایا! وہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو نے مجھے نہیں پلایا! وہ کہے گا : اے میرے رب میں کیسے آپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے پینے کو کچھ مانگا اور تُو نے اسے نہیں پلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا!۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Allah, Glorified and Exalted, will say on the Day of Judgment: 'O son of Adam, I was ill, but you did not visit Me.' He will respond: 'O Lord, how could I visit You and You are the Lord of the worlds?' Allah will say: 'Did you not know that My Servant, so-and-so, was ill but you did not visit him? Do you not know that if you had visited him, you would have found Me with him? O son of Adam, I asked you for food, but you did not feed Me.' He will respond: 'O Lord, how could I feed You and You are the Lord of the worlds?' He will say: 'Did you not know that My Servant, so-and-so, asked you for food, but you did not feed him? Do you not know that if you had fed him, you would have found (its reward) with Me? O son of Adam, I asked you for water, but you did not give Me any.' He will respond: 'O Lord, how could I give You (water) to drink and You are the Lord of the worlds?' And Allah will say: 'My Servant, so-and-so, asked you for a drink, but you did not give him one. Do you not know that if you had given him a drink, you would have found (its reward) with Me?'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5544

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟!، یعنی آپ کو تو ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کی بیمار پرسی کرتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اس حدیث میں کوئی اشکال نہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں بیمار ہوا تو تُو نے میری بیمار پرسی نہیں کی؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو کسی بیماری کا لاحق ہونا ناممکن ہے؛ کیوں کہ بیمار ہونا صفتِ نقص ہے جب کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے، لیکن یہاں بیماری سے مراد اس کے نیک اور صالح بندوں میں سے کسی بندے کا بیمار ہونا ہے جو کہ اس کے خاص لوگ ہوتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اور یہ نہیں فرمایا کہ تُو اس کا اجر میرے پاس پاتا جیسا کہ آگے چل کر کھانے اور پینے کے بارے میں فرمایا، بلکہ یہاں تو یہ فرمایا کہ تُو مجھے اس کے پاس پاتا، اور یہ بات مریض کی اللہ تعالیٰ سے قربت پر دلالت کرتی ہے، اسی لیے علماء کا کہنا ہے کہ مریض کا کسی شخص کے لیے دعاء یا بد دعاء کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں سنا جاتا ہے۔
اللہ کا یہ فرمان : اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تُو نے مجھے نہیں کھلایا!، یعنی میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تُو نے مجھے نہیں کھلایا، یہ تو بات تو طَے شدہ ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے لیے تو کھانا طلب نہیں کرتا اس کا فرمان ہے: ﴿وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ﴾ ”وہی ہے جو کھانے کو دیتا ہے، اس کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا“ (الأنعام: 14) وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے اسے نہ کھانے کی ضرورت ہے نہ تو پینے کی حاجت ہے، لیکن دنیا میں اس کے بندوں میں سے کسی بندے کو بھوک لگی تو ایک شخص نے باوجود جاننے کے اسے کھانا نہ کھلایا تو ارشاد فرمایا: اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا“ یعنی اس کھلانے کا ثواب میرے پاس میرے خزانون سے پاتا میرے پاس ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔
اللہ کا یہ فرمان: اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو تُو نے مجھے نہیں پلایا، یعنی میں نے تجھ سے پینے کی کوئی چیز مانگی تو تُو نے مجھے نہیں دی تو بندہ کہے گا :میں کیسےآپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟، یعنی آپ کو تو کھانے پینے کی ضرورت ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے کو پیاس لگی یا اس نے تجھ سے پانی مانگا، اور تو نے اسے نہیں پلایا، کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پانی پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی پیاسا آپ سے پانی مانگے تو اسے پانی پلانے پر آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پلانے کا ثواب (خزانوں میں) جمع ہو گا، ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

Explanation

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “Allah, Glorified and Exalted, will say on the Day of Judgment: 'O son of Adam, I was ill, but you did not visit Me.' He will respond: 'O Lord, how could I visit You and You are the Lord of the worlds?'" meaning: You are independent and not in need of my visit. Allah will say: “Did you not know that My Servant, so-and-so, was ill but you did not visit him? Do you not know that if you had visited him, you would have found Me with him?” There is nothing difficult to understand in this Hadīth in the part where Allah, the Almighty, says: "I was ill, but you did not visit Me", because it is impossible for Allah, the Almighty, to become ill, as illness is an attribute of deficiency and Allah, Glorified and Exalted, is free from deficiency. What is meant by "ill" here is that one of the righteous slaves of Allah was sick and the allies of Allah, Glorified and Exalted, were close to Him. For this reason, Allah said: "…if you had visited him, you would have found Me with him", and did not say: "you would have found (its reward) with Me", as He said in regard to the food and drink. This indicates how close the sick person is to Allah, the Almighty. Hence, the scholars said: "The sick person is worthy of having his supplication answered, whether he supplicates for someone or against someone." “O son of Adam, I asked you for food, but you did not feed Me.” It is known that Allah, the Almighty, does not seek food for Himself, as He says: {He who feeds and is not fed} [Sūrat al-An‘ām: 14]. Allah is independent and does not need anyone or anything or food or drink, but if one of Allah’s servants feels hungry and someone knows about it but does not feed him, Allah, the Almighty, says: “Do you not know that if you had fed him, you would have found (its reward) with Me?” This means that you would have found the reward of giving him food saved for you as a good deed, and a good deed can be multiplied ten times and up to seven-hundred times, or as many times as Allah wills. “O son of Adam, I asked you for water, but you did not it give Me any”, meaning: I asked you for a drink, but you did not give Me a drink. He responds: “… how could I give You (water) to drink and You are the Lord of the worlds?” meaning: You are not in need of food or drink. Then Allah says: “My Servant, so-and-so, asked you for a drink, but you did not give him one. Do you not know that if you had given him a drink, you would have found (its reward) with Me?” Providing someone with something to drink when they ask for a drink will win you a reward that will be saved for you as a good deed, and a good deed can be multiplied ten times and up to seven-hundred times or as many times as Allah wills.

Topics موضوعات